بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بارش ،خواہش کرنے والے کراچی کے شہریوں کیلئے بھاری پڑ گئی،ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ

datetime 6  اگست‬‮  2016 |

کراچی(آئی این پی) کراچی میں دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ، مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 13 ہو گئی ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو کراچی میں مسلسل دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث شہر کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں، بارش کے باعث شہر کے 50 فیصد سے زائد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شدید بارش کے باعث سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث بچوں کو اسکول اور شہریوں کو دفاتر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بلدیہ ٹاؤن میں بارش کے باعث مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے جس کے بعد مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ اولڈ سٹی ایریا، کورنگی، لانڈھی، ڈیفنس اور محمود آباد میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں واقع انڈر بائی پاسز میں بھی پانی بھر گیا۔ شہر کے نشیبی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک پانی جمع ہے جب کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے والی سڑک بھی ندی کا منظر پیش کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر کا ہنگامی دورہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رحمت کی بارش کراچی والوں کے لئے زحمت نہیں بننی چاہیئے، متعلقہ اداروں کے افسران اور عملہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نالوں کی صفائی کا بھی خود جائزہ لوں گا اور نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی غفلت برادشت نہیں کی جائے گی۔دوسری جانب ترجمان واٹر بورڈ نے کہا ہے کہ متعدد پمپنگ اسٹیشنز کی بجلی معطل ہونے کی وجہ سے شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ کراچی کو کل سے اب تک 80 کروڑ گیلن پانی فراہم نہیں کیا جاسکا، دھابیجی گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی تاحال بند ہے اس لئے پانی کا استعمال کفایت شعاری سے کیا جائے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارشوں کا سلسلہ رات تک جاری رہنے کا امکان ہے، (آج ) اتوار سے سندھ میں داخل ہونے والا بارشوں کا سسٹم کمزور ہو گا جو پیر تک بتدریج ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…