منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ہی ادارے کے طالب علم ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، عمران خان اور من موہن سنگھ، ادارے کا پاکستان سمیت دیگر ایشائی ممالک کیلئے بڑے اقدام کا فیصلہ

datetime 3  اگست‬‮  2016 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہونے والی برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایشیائی طالب علموں کی تعداد میں تیزی سے کمی آنے لگی ۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کا شمار دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ چند برسوں میں یہاں داخلہ لینے والے ایشیائی طالب علموں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اوکسفرڈ میں ایشیائی طالب علموں کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی طالب علموں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک پروگرام متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈاکٹر ثمینہ خان اکسفرڈ میں انڈرگریجویٹ ایڈمیشنز اینڈ آٹ ریچ کی ڈائریکٹر ہیں اور انھوں نے سکول کے بچوں کے ایک گروپ کو یونیورسٹی کا دورہ کروایا۔یہ دورہ یونیورسٹی کی جانب سے ان طالب علموں کی توجہ حاصل کی کرنے کی کوشش تھا جو عام طور پر اکسفرڈ میں داخلہ لینے کے بارے میں نہیں سوچتے۔وہ کہتی ہیں: ہر جگہ قابلیت موجود ہوتے ہیں۔ آپ کس میں دلچسپی رکھتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے متعلق ہے۔یونیورسٹی میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور انڈین نژاد انڈرگریجویٹس طالب علموں کی تعداد برطانیہ کے سفید فام طالب علموں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔ 2015 میں انڈرگریجویٹ داخلوں کی شرح25 فیصد کے مقابلے 2۔11 فیصد رہی ہے۔ثمینہ خان کا کہنا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ایشین طالب علم انجینیئرنگ اور میڈیسن کی جانب زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔وہ تسلیم کرتی ہیں یونیورسٹی کی ساکھ کو لوگوں کے ذہنوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔آکسفورڈڈ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں خاصی معروف ہے اور اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو، کرکٹر اور سیاستدان عمران خان، سابق انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ اور ادیب وکرم سیٹھ کا یہاں سے تعلیم یافتہ ہیں۔اوکسفرڈ میں سیاہ فام اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 25 فیصد ہے اگر ان میں بین الاقوامی طالب اور پوسٹ گریجویٹس بھی شامل کرلیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…