منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کھانے سے قبل پانی پینے کے حیرت انگیز فوائد

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد کے جسم پھیلنے کی بڑی وجہ پانی کی کمی بھی ہوتی ہے۔تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی ضروریات اور جسمانی وزن کے درمیان تعلق واضح نہیں ، تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پیاس بجھانے کا عمل صحت کے لیے کتنا ضروری ہے۔محققین کے مطابق جسم میں پانی کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنا بھی جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا جتنی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات تو پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ زیادہ پانی پینا لوگوں کو زیادہ کھانے سے روکتا ہے کیونکہ اکثر وہ بھوکے ہونے کی بجائے پیاسے ہوتے ہیں، جس کا احساس انہیں نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق ابھی یہ تو کہنا ٹھیک نہیں کہ جسم میں پانی کی کمی موٹاپے کا باعث بنتی ہے، تاہم ان دونوں کے درمیان تعلق ضرور موجود ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ صحت مند غذائیں جن میں پانی کا عنصر زیادہ ہو ، جسم کے لیے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ خیال رہے کہ چند ماہ پہلے ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کھانے سے پہلے 500 ملی لیٹر پانی پینا موٹاپے سے نجات کے لیے بہترین نسخہ ثابت ہوتا ہے۔اس تحقیق کے دوران محققین نے موٹاپے کے شکار مرد و خواتین کو 2 گروپس میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ کو کم کیلوریز پر مشتمل غذا فراہم کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو اسی غذا کے ساتھ زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی گئی۔ 12 ہفتے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ جس گروپ کو کم کیلوریز کی غذا اور کھانے سے آدھے گھنٹے قبل 2 گلاس پانی پینے کی ہدایت کی گئی ان کا جسمانی وزن اس عرصے میں 8 سے 10 کلو تک کم ہو گیا۔پہلے گروپ کا جسمانی وزن بھی 5 سے 8 کلو تک کم ہوا۔ محققین کے خیال میں زیادہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ بہت کم کیلوریز کو اپنے جسم کا حصہ بناسکیں اور انہوں نے پہلے گروپ کے مقابلے میں ہر کھانے میں 40 فیصد کم کیلوریز کا استعمال کیا۔اس تحقیق سے سابقہ رپورٹس کی تصدیق ہوتی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کھانے سے پہلے پانی پینے کے نتیجے میں فی فرد کیلوریز کے استعمال میں اوسطاً 200 تک کمی آتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…