جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

بھارتی معروف موسیقارکی پاکستان میں پرفارمنس کی خواہش، لیکن پرفارم نہ کرنے کی وجہ بھی بتا دی

datetime 30  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیا کے معروف موسیقار اے آر رحمان ’اوریجنل‘ موسیقی تخلیق کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور دوسروں سے متاثر ہو کر موسیقی کمپوز نہیں کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ موسیقی آپ کے اندر کی آواز ہوتی ہے۔ جس چیز کو آپ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں وہ آپ کی موسیقی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہجب میں صوفی موسیقی تخلیق کرتا ہوں یا مجھے صوفیانہ موسیقی کمپوز کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تب میں اوریجنل موسیقی تخلیق کرنا چاہتا ہوں، کسی دوسرے سے متاثر ہو کر نہیں۔میں صرف فلموں کے لیے ہی موسیقی نہیں دیتا بلکہ میری میوزک لوگوں کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس لیے میں بھجن گاؤں یا صوفیانہ موسیقی ان باتوں کا خیال ضرور رکھتا ہوں۔ یہ ایک یقین ہے جو سب کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔ یہ واقعی میں ایک مقدس چیز ہے، اس لیے موسیقی تخلیق کرتے وقت میں اس کا خیال رکھتا ہوں۔‘
رحمان کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انھیں رات کے وقت نئی دھنوں کا خیال آتا ہے۔ رات میں آخری نماز بارہ بجے تک پڑھنی ہوتی ہے اور پہلی نماز صبح چار بجے ہوتی ہے بارہ بجے سو کر صبح چار بجے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے بھی رات میں کام کرتا ہوں۔اے آر رحمان اپنے والد، نوشاد، ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، مدن موہن، ایم ایس وشوناتھن، کیوی مہادیو اور جان ولیمز کو اپنا پسندیدہ موسیقار مانتے ہیں اور پاکستانی فنکاروں میں نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن کو اپنا پسندیدہ آرٹسٹ بتاتے ہیں۔
ان کامزید کہنا تھا کہ اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان سارے سیاسی اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور امن قائم ہوتا ہے تو وہ پاکستان جا کر پرفارم کرنا پسند کریں گے۔ کسی موسیقار سے متاثر ہونے کی بات پر وہ کہتے ہیں کہ یہ اچھی بات بھی ہے اور بری بات بھی۔آپ کسی موسیقار کی لگن اور موسیقی کی گہرائی سے تو سیکھ سکتے ہیں۔ اس سے رغبت بھی حاصل کرسکتے ہیں لیکن موسیقی سے نہیں کیونکہ اس سے آپ کی اپنی شناخت کھو جاتی ہے۔فلم سلم ڈاگ ملینیئر کے ایک نغمے ’جے ہو‘ کے لیے اے آر رحمن کو آسکر ایوارڈ مل چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…