سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی بھی غیرارضی عنصر کا 100میٹر سے زائد لمبا ٹکڑا زمین سے ٹکرا جائے تو اس کے خاتمے کے لیے کافی ہے مگر اس پتھر کے ٹکڑے کی لمبائی 120میٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ زمین سے ٹکرا گیا تو ہماری زمین پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس پتھر کے زمین سے ٹکرانے سے گردوغبار کا ایک طوفان ہمارے ماحول میں اٹھے گا جس سے زمین کا درجہ حرارت 8ڈگری سینٹی گریڈ تک نیچے گر جائے گا جس سے ہماری زمین انتہائی سرد اور تاریک جگہ بن جائے گی۔ پوری دنیا کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جائے گا۔ اس پتھر کا یہ خوفناک اثر کئی سال تک برقرار رہے گا اور اس دوران زمین سے زندگی کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل سنٹر فار اٹماسفیئرک ریسرچ (National Center for Atmospheric Research)کے سائنسدان چارلس برڈین کا کہنا ہے کہ ’’پتھر کا یہ ٹکڑا گرنے سے زمین کا درجہ حرارت ’’برف کے زمانے‘‘ کے برابر ہو جائے گا جو سالوں پر محیط ہو گا اور یہ وقت زمین پر موجود زندگی کے لیے خوشگوار نہیں ہو گا۔‘‘واضح رہے کہ ناسا ہر اس خلائی عنصر کی نگرانی کرتا ہے جو گرتے ہوئے زمین کے مرکز سے 46لاکھ میل دوری یا اس سے کم فاصلے سے گزرتا ہے۔ پتھر کے اس مذکورہ ٹکڑے کو سائنسدانوں نے 2016 NX22کا نام دیا ہے جو زمین کے مرکز سے 45لاکھ کلومیٹر کی دوری سے گزرے گا تاہم اس کے غیرمعمولی طور پر بڑے سائز کی وجہ سے سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس کے روٹ میں ذرا سی بھی تبدیلی ہوئی تو یہ زمین سے ٹکرا جائے گا ۔
2 اگست کو زمین پر قیامت برپا ہو سکتی ہے۔۔کیسے؟ سائنسدانوں نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یوں تو شہاب ثاقب زمین سے ٹکراتے رہتے ہیں لیکن زمین تک پہنچتے پہنچتے یہ ریزہ ریزہ ہو کر اتنے چھوٹے سائز کے ہو جاتے ہیں کہ ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتا تاہم اب ماہرین فلکیات نے اس حوالے سے ایک انتہائی سنگین وارننگ جاری کر دی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق امریکی ادارے ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’خلائی پتھر کا ایک بہت بڑا ٹکڑا تیزی سے زمین کی طرف سفر کر رہا ہے اور یہ 2اگست کو زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا۔ اگر اس کے راستے میں معمولی سی تبدیلی بھی ہو گئی تو یہ سیدھا ہماری زمین سے ٹکرا جائے گا اور یہاں قیامت برپا ہو جائے گی۔‘‘
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی بھی غیرارضی عنصر کا 100میٹر سے زائد لمبا ٹکڑا زمین سے ٹکرا جائے تو اس کے خاتمے کے لیے کافی ہے مگر اس پتھر کے ٹکڑے کی لمبائی 120میٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ زمین سے ٹکرا گیا تو ہماری زمین پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس پتھر کے زمین سے ٹکرانے سے گردوغبار کا ایک طوفان ہمارے ماحول میں اٹھے گا جس سے زمین کا درجہ حرارت 8ڈگری سینٹی گریڈ تک نیچے گر جائے گا جس سے ہماری زمین انتہائی سرد اور تاریک جگہ بن جائے گی۔ پوری دنیا کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جائے گا۔ اس پتھر کا یہ خوفناک اثر کئی سال تک برقرار رہے گا اور اس دوران زمین سے زندگی کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل سنٹر فار اٹماسفیئرک ریسرچ (National Center for Atmospheric Research)کے سائنسدان چارلس برڈین کا کہنا ہے کہ ’’پتھر کا یہ ٹکڑا گرنے سے زمین کا درجہ حرارت ’’برف کے زمانے‘‘ کے برابر ہو جائے گا جو سالوں پر محیط ہو گا اور یہ وقت زمین پر موجود زندگی کے لیے خوشگوار نہیں ہو گا۔‘‘واضح رہے کہ ناسا ہر اس خلائی عنصر کی نگرانی کرتا ہے جو گرتے ہوئے زمین کے مرکز سے 46لاکھ میل دوری یا اس سے کم فاصلے سے گزرتا ہے۔ پتھر کے اس مذکورہ ٹکڑے کو سائنسدانوں نے 2016 NX22کا نام دیا ہے جو زمین کے مرکز سے 45لاکھ کلومیٹر کی دوری سے گزرے گا تاہم اس کے غیرمعمولی طور پر بڑے سائز کی وجہ سے سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس کے روٹ میں ذرا سی بھی تبدیلی ہوئی تو یہ زمین سے ٹکرا جائے گا ۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی بھی غیرارضی عنصر کا 100میٹر سے زائد لمبا ٹکڑا زمین سے ٹکرا جائے تو اس کے خاتمے کے لیے کافی ہے مگر اس پتھر کے ٹکڑے کی لمبائی 120میٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ زمین سے ٹکرا گیا تو ہماری زمین پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس پتھر کے زمین سے ٹکرانے سے گردوغبار کا ایک طوفان ہمارے ماحول میں اٹھے گا جس سے زمین کا درجہ حرارت 8ڈگری سینٹی گریڈ تک نیچے گر جائے گا جس سے ہماری زمین انتہائی سرد اور تاریک جگہ بن جائے گی۔ پوری دنیا کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جائے گا۔ اس پتھر کا یہ خوفناک اثر کئی سال تک برقرار رہے گا اور اس دوران زمین سے زندگی کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل سنٹر فار اٹماسفیئرک ریسرچ (National Center for Atmospheric Research)کے سائنسدان چارلس برڈین کا کہنا ہے کہ ’’پتھر کا یہ ٹکڑا گرنے سے زمین کا درجہ حرارت ’’برف کے زمانے‘‘ کے برابر ہو جائے گا جو سالوں پر محیط ہو گا اور یہ وقت زمین پر موجود زندگی کے لیے خوشگوار نہیں ہو گا۔‘‘واضح رہے کہ ناسا ہر اس خلائی عنصر کی نگرانی کرتا ہے جو گرتے ہوئے زمین کے مرکز سے 46لاکھ میل دوری یا اس سے کم فاصلے سے گزرتا ہے۔ پتھر کے اس مذکورہ ٹکڑے کو سائنسدانوں نے 2016 NX22کا نام دیا ہے جو زمین کے مرکز سے 45لاکھ کلومیٹر کی دوری سے گزرے گا تاہم اس کے غیرمعمولی طور پر بڑے سائز کی وجہ سے سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس کے روٹ میں ذرا سی بھی تبدیلی ہوئی تو یہ زمین سے ٹکرا جائے گا ۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































