ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

امریکہ نے فتح اللہ گولن کو ملک بدر کیا تو ہماری حکومت پناہ فراہم کرے،اہم اسلامی ملک میں بڑی آواز اُٹھ گئی

datetime 27  جولائی  2016 |

قاہرہ(این این آئی) مصر کے رکن پارلیمنٹ عماد مہورس نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خودساختہ جلاوطنی پر امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن کو مصر میں سیاسی پناہ دی جائے۔ترک میڈیا کے مطابق مصر کے رکن پارلیمنٹ عماد مہورس نے اس مطالبے پر مبنی درخواست مصری پارلیمنٹ کے سپیکر علی عبدالآل، وزیراعظم شریف اسماعیل اور وزیرخارجہ سمیع شوکرے کو ارسال کی ہے۔ عماد مہورس مصر کی ڈیموکریٹک پیس پارٹی کے رکن ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عماد مہورس کا کہنا تھا کہ ’’فتح اللہ گولن کو سیاسی پناہ دینے کے متعلق میری درخواست دراصل لاکھوں مصری باشندوں کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ دنوں ترکی میں رونما ہونے والے واقعات کا بغور جائزہ لیتے رہے۔ انہوں مزید کہا کہ ترکی ایک اعتدال پسند اسلامی ملک تھالیکن رجب طیب اردگان اور اس کی پارٹی نے اسے اسلامی آمریت پسندی کا ملک بنا دیا ہے۔رجب طیب اردگان کا امریکہ سے اپنے سیاسی مخالف فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کرنا مضحکہ خیز ہے حالانکہ انہوں نے خود دیگر کئی اسلامی ممالک کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں کے رہنما?ں کو اپنے ہاں سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ان میں ایسے شدت پسند رہنماء بھی شامل ہیں جن کی تنظیمیں رات دن مصر میں حملے کر رہی ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عماد مہورس کا مزید کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر فتح اللہ گولن کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اس وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جب امریکہ انہیں ترکی کے حوالے کر دے۔ انہیں جلد از جلد امریکہ چھوڑ کر مصر آ جانا چاہیے۔بالکل اسی طرح جیسے 1979ء میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی امریکہ چھوڑ کر مصر آ گئے تھے جنہیں اس وقت کے مصر کے بہادر صدر انور سادات نے تمام تر دھمکیوں کے باوجود یہاں محفوظ پناہ دی تھی۔میں اکیلا ہی نہیں، مصر کے کئی اراکین پارلیمنٹ سمجھتے ہیں کہ رجب طیب اردگان ناکام فوجی بغاوت کو ترکی میں اسلامی آمریت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…