پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

امریکہ نے افغانستان کی فضائیہ کیلئے مزیدچار لڑاکا طیارے فراہم کر دیئے

datetime 22  جولائی  2016 |

واشنگٹن/کابل (این این آئی) امریکہ نے افغانستان کی فضائیہ کیلئے مزیدچار لڑاکا طیارے فراہم کر دیئے ۔ افغان میڈیاکے مطابق اس سلسلے میں مزارشریف میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان فضائیہ کے سربراہ جنرل عبدالوہاب ورد ک نے کہاکہ جمعہ کو امریکہ کی طرف سے افغان فضائیہ کیلئے مزید4 اے 9 2 سوپر تو کا نولائٹ اٹیک طیارے باضابطہ طورپر افغان فضائیہ کے حوالے کردیئے گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ طیاروں کی فراہمی سے افغانستان کی فضائیہ کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان طیاروں کی فراہمی سے فضائیہ کی استعداد کار میں اضافہ بھی ہوگا۔ افغانستان کی فضائیہ کیلئے 28 ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔ادھر امریکی اہلکار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے کچھ طیارے 2018 تک افغانستان نہیں پہنچ سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ طیارے ملنے کے بعد افغان ہوا بازوں کی تربیت کے لیے مزید دو سے تین سال درکار ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ افغان فضائیہ 2020 سے قبل مطلوبہ ضروری طاقت کی سطح تک نہیں پہنچ سکے گی۔ان کے بقول افغان فضائیہ کی مطلوبہ صلاحیت کے حصول کے بارے میں 2020 ایک درست اندازہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ افغان ائیر فورس کی تیاری کا عمل امریکہ نے بہت دیر سے شروع کیا۔مثال کے طور پر 2014 میں افغان فضائیہ نے 85 فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا جب کہ 2015 میں افغانستان کی فضائیہ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی تعداد 4,485 تھی۔انہوں نے کہاکہ آئندہ کچھ ہفتوں میں افغان فورس کے پاس A-29 ٹربوپروب اٹیک طیاروں کی تعداد دو گنا ہو جائے گی جبکہ اس کے علاوہ 10 ایم ڈی350ہیلی کاپٹر اس سال افغان فورسز کو مل جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکہ اور نیٹو کو افغان فورس کو تربیت اور لڑائی کے دوران مشاورت فراہم کرنا ہو گی، خاص طور پر ان کو جو فضائی کارروائیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔لڑائی کے دوران فضائی کارروائیوں کی نگرانی یا انھیں کنٹرول کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہداف کی درستگی سے نشاندہی کریں تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…