پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

72گھنٹوں کی ڈیڈ لائن،سندھ میں بڑے اقدام کا اعلان ہوگیا

datetime 22  جولائی  2016 |

کراچی( این این آئی)کراچی کے تاجروں نے رینجرز اختیارات بحالی کے تحت حکومتِ سندھ کو 72گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا، اختیارات بحال نہ کیئے گئے تو تاجر وزیرِاعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دینگے، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی زیرِصدارت پیر 25جولائی کو آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں تاجروں کے ہنگامی اجلاس میں احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائیگا، جمعہ کو آل کراچی تاجر اتحاد کی سپریم کونسل کے فیصلے کے بعد عتیق میر نے حکومتِ سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی اطمینان بخش اور حوصلہ افزاء صورتحال کے خلاف کسی بھی نامناسب فیصلے سے گریز کیا جائے اور بحالیِ امن کے تحت فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے والے سیکوریٹی اداروں کی کارکردگی میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کی جائے،انھوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور اغواء کاروں کا راستہ دوبارہ کھولنے کی کوشش نہ کرے، تاجر رہنماؤں اکرم رانا، انصار بیگ قادری، طارق ممتاز، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، احمد شمسی، شیخ محمد عالم،سمیع اللہ خان، سید شرافت علی، ملک اسلم جاوید ارائیں، ضیاء عمر سہگل، الطاف لالہ، میر عبدالحئی خان،محمد آصف ، دلشاد بخاری، عبدالقادر، محمد عارف، عبدالحکیم شاہ، عرفان للہ، امان اللہ شاہ، شاکر فینسی اور دیگر نے شہر میں قیام امن کے تحت رینجرز کی بیمثال کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں رینجرز کو بے اختیار کیا گیا تو بھتہ خور پھر با اختیار ہوجائینگے، امن و امان کے تحت کی گئیں کوششوں کو دھچکا پہنچے گا اور زیرِ زمین چھپے ہوئے بھتہ خور اور اغواء کار دوبارہ فعّال ہوجائینگے، تاجروں نے کہا کہ تاجر برادری رینجرز کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہے، سیاسی جماعتیں اپنی صفوں کو مجرموں سے پاک کریں رینجرز کا خوف از خود ختم ہوجائیگا، رینجرز کی کارکردگی غلطیوں سے پاک نہیں ہے لیکن رینجرز کی غلطیوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اصلاح بھی تجویز کی جائے، عتیق میر نے کہا کہ رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کی بدولت شہر میں سرمایہ کاری کی فضاء بحال ہورہی ہے، کاروباری مراکز میں خوف کی فضاء ختم، بھتہ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں 90%سے زائد کمی واقع ہوگئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں بھی واضح طور پر کمی واقع ہونے سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا کا خاتمہ ہوگیا ہے، انھوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بحالئیِ امن کو فوقیت دے اور کسی بھی فیصلے سے قبل شہر میں امن و امان کے مستقبل کو پیشِ نظر رکھا جائے، موجودہ حالات سیکوریٹی اداروں کی حوصلہ افزائی کا تقاضا کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان رینجرز واحد ادارہ ہے جس نے شہر میں جرائم اور بدعنوانیوں کے خلاف تن تنہا بیڑہ اٹھارکھا ہے، سیاست زدہ، بے اختیار اور مفلوج پولیس قیامِ امن کا بوجھ تنہا نہیں اٹھاسکتی، رینجرز شہریوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی حفاظت کررہی ہے، انھوں نے کہا کہ رینجرز کو شہر میں اس وقت قیامِ امن کی ذمے داریاں تفویض کی گئی تھیں جب لاقانونیت اور بدامنی کے بدترین حالات میں تمام دینی،سیاسی اور تجارتی جماعتیں فوج کی تعینّاتی کا مطالبہ کررہی تھیں، انھوں نے خبردار کیا کہ اب رینجرز کو دوبارہ غیر فعال اور بے اختیار کیا گیا تو تاجر برادری سیکشن 245کے تحت صوبہ سندھ میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کریگی۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…