اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف آمریت کی گود میں پلے اور۔۔۔ خورشید شاہ نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 22  جولائی  2016 |

بدین(این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشیداحمد شاہ نے کہا ہے کہ جمہوریت کو ملک میں روشناس کرانے میں پیپلزپارٹی کا کردار ہے جب کہ نواز شریف تو آمریت کی گود میں پلے اور جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا۔بدین کے علاقے ماتلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو پیپلزپارٹی نے روشناس کرایا،ذوالفقار علی بھٹو نے مزدور طبقے کو اہمیت دی جب کہ بھٹو نے ہی ذات پات کی سیاست کو ختم کرکے عوامی سیاست کو عروج دوام بخشا اس لئے پنجاب کے عوام نے انہیں اپنے کاندھوں پر بٹھایا، لیکن پھر ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹروں نے اس ملک کی سیاست کا رخ تبدیل کرکے بھائی کو بھائی سے لڑوایا اور عوام کو برادریوں میں تقسیم کردیا اور جس دور میں نواز شریف نے دیکھا کہ بے نظیر بھٹو تو ہر صوبے پر راج کررہی ہیں تو اس وقت انہوں نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگادیا۔خورشید شاہ نے کہا کہ اس وقت نواز شریف نے غلط سوچ کے باعث یہ نعرہ لگایا اور پھر سیاست میں آنے کے لئے آمریت کی گود میں پلے بڑھے، اب نواز شریف نے اپنے نعرے کو وفاق کی سیاست کے نعرے سے بدل لیا ہے لیکن اب دیکھنا ہے کہ وفاق کی سیاست کا نعرہ تو آیا ہے اس پر عمل کتنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت سیاسی ورکر ہی کرسکتا ہے، پیپلزپارٹی نے ہی صوبائی مختاری دی، کئی سالوں سے نہ حل ہونے والا این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ بھی ہم نے حل کیا، ہم نے جیلوں کے راستے بند کئے جب کہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد بھی ہم سب کو ساتھ لے کرچلے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سندھ پاکستان کابانی صوبہ ہے جس میں سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرایا گیا اور یہی وہ صوبہ ہے جس نے وفاق پر کسی بھی آنے والی آنچ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردارادا کیا لیکن سب سے زیادہ ریونیو دینے والے اسی صوبے کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے عوام میں احساس محرومی پھیل گئی ہے کہ ان کے صوبوں کو صوبائی خود مختاری اور ان کا حصہ کیوں نہیں مل رہا جب کہ دوسری جانب پنجاب کے ایک شہر میں اربوں روپے لگا دئے جاتے ہیں اورجنوبی پنجاب میں ایک پیسے کا فنڈ اس لئے نہیں لگایا جاتا کہ وہاں(ن) لیگ کی نمائندگی نہیں ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ اب عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ لاہور میں لگنے والا پیسہ کہاں سے آرہا ہے اور حکمرانوں کو علم ہونا چاہئے کہ ایسی سوچ پاکستان کے لئے کتنی خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو روزگار ملنا چاہئے کسان جو پس رہے ہیں ان کے بارے میں بھی وفاق کو سوچنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…