اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دیگا‘چیف جسٹس

datetime 11  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے پاور چائنہ کنسٹرکشن کمپنی کی داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کے معاملے پر حکم امتناعی کی درخواست مسترد کردی جبکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے دوران سماعت ریمارکس دئیے ہیں کہ منصوبے کیلئے ورلڈ بنک سرمایہ فراہم کررہا ہے ‘کیا ورلڈ بنک کی شرائط سے باہر جایا جاسکتا ہے‘عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دیگا‘غیر ملکی کمپنی کی بات مان لیں تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں فاضل بنچ نے سماعت کی۔ جس دوران سپریم کورٹ نے داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کے معاملے پر پاور چائنہ کنسٹرکشن کمپنی کی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ منصوبے کے لئے ورلڈ بنک سرمایہ فراہم کررہا ہے کیا ورلڈ بنک کی شرائط سے باہر جایا جاسکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے یہ سوال بھی کیا کہ عدالتی حکم پر اگر ورلڈ بنک فنڈنگ روک دے تو پھر داسو ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ کون دے گا۔ انہوں نے کہا غیر ملکی کمپنی کی بات مان لیں تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ پاور چائنہ کمپنی نے داسو ڈیم کے تعمیراتی ٹھیکے کی بولی روکنے کی استدعا کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…