اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عید الفطر، وزیر اعظم نواز شریف کے بیان نے پوری قوم میں جوش و خروش کی نئی لہر دوڑا دی

datetime 7  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عید الفطر مسلمانوں کے لئے خوشی اور تشکر کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اوررحمتوں کا تقاضا ہے کہ ہم اس موقع پر اپنے عزیز و اقارب ، پڑوسیوں اورضرورت مند بہن بھائیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں اور ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل رکھیں۔ عید الفطر کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الفطر کے پرْمسرت موقع پرمیں ملت اسلامیہ کو بالعموم اور پاکستانی قوم کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ پاک ہم سب کی عبادتوں کو قبول فرمائیں اوراس ماہ مبارک کے تینوں عشروں کو ہمارے لیے رحمت ، مغفرت اور جہنم کی آگ سے خلاصی کاضامن بنا دیں۔ آمین عید الفطر مسلمانوں کے لئے خوشی اور تشکر کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اوررحمتوں کا تقاضا ہے کہ ہم اس موقع پر اپنے عزیز و اقارب ، پڑوسیوں اورضرورت مند بہن بھائیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں اور ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل رکھیں۔ عید کے دن ہم ان لوگوں کو نہیں بھلا سکتے جو اپنے پیاروں سے دور وطن کی خاطر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ پاک فوج ، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شب و روز دفاع وطن میں مصروف ہیں ،اْن کے تہوار ہماری خوشیوں کو محفو ظ بنانے ، امن وامان کو یقینی بنانے اورشرپسندی کا خاتمہ کرنے میں گزرتے ہیں۔ میں اپنے اور اہل وطن کی طرف سے عید کی ساری خوشیاں اْن کے نام کرتا ہوں۔میری دْعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہرمحاذ پر کامیابی عطا فرمائے اور وہ آئندہ تہوار اپنے اہل خانہ اور اپنے پیاروں کے ساتھ منائیں۔ خاص طورپر ضرب عضب میں مصروف جوان پوری قوم کی طرف سے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پوری قوم اْن کے جذبے کو سلام کرتی ہے۔ ہمیں آج اس مبارک موقع پر یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گیاور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔ہمیں یہ عہد بھی کرنا چائیے کہ ہم اپنی زندگی میں رواداری ، مفاہمت ، در گذر ، اخوت و محبت ، برداشت ، صبرو تحمل اور سخاوت پر مبنی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں گے۔یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اسلام کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہوکر زندگی گزاریں اورحسد اور نفرت جیسے منفی رجحانات پر قابو پائیں۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے جس پر چل کر ہم دنیا اورآخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔پاکستان کے دشمن اس بات سے باخبر ہیں کہ ہماری اصل قوت ہماری تہذیب اور ثقافت میں ہے۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ہر مشکل گھڑی میں اکٹھا کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم سیاسی و مذہبی اختلافات سے بالا تر ہوسکتے ہیں۔ عید کے موقع پر ہمیں اس کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ اپنے عزیز و اقارب ، پڑوسیوں اور محلہ داروں کو سیاسی اور مذہبی تقسیم سے بالا تر ہوکر ملیں گے اور عید کے اس موقع کو وحدت قوم کا دن بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…