اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

امریکی وفد اچا نک جنرل راحیل شریف کے پاس پہنچ گیا، افغانستا ن با رے کیا بات ہو ئی؟ جا نئے

datetime 3  جولائی  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان اور پاکستان سفیر رچرڈ اولسن اور امریکی سینیٹر جان مکین کی قیادت میں وفد نے ہفتے کے روز جنرل ہیڈ کوارٹرز راول پنڈی میں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے امریکی وفد کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو درپیش چیلنجز اور افغانستان کے ساتھ سرحد پر غیرمؤثرانتظام سے اس جنگ میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔سینیٹر جان مکین نے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف پاک آرمی کے آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔انھوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو خطے اور دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔امریکی کانگریس کے وفد میں سینیٹر لنڈزے گراہم اور سینیٹر جو ڈونیلی بھی شامل تھے۔قبل ازیں آرمی چیف سے امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن نے ملاقات کی اور ان سے علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
مسٹر اولسن نے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چودھری سے بھی دفتر خارجہ ،اسلام آباد میں ملاقات کی۔انھیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے انتظام اور دوسرے سکیورٹی امور سے متعلق اعلیٰ سطح کے مشاورتی میکانزم کے بارے میں بتایا گیا۔امریکی سفیر نے پاکستان کی افغانستان میں طویل المیعاد امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ امریکا سرحدی انتظام سے متعلق پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔سیکریٹری خارجہ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی جلد سے جلد عزت اور وقار کے ساتھ ان کے وطن کو واپسی چاہتا ہے۔امریکا اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے سمیت عالمی برادری کو ان کوششوں کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…