اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

گوادر منصوبے کا ماسٹر پلان ، عوام کیلئے خوشخبری آگئی

datetime 29  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد / گوادر ( مانیٹر نگ ڈیسک ) پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر بندر گاہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوادر کو دنیا کا بہترین شہر بنانے کے لئے ماسٹر پلان تیار ہو چکا ہے جب کہ سمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے پر سٹڈی جاری ہے ، رواں سال کے آخر تک گوادر سے کوئٹہ اور گوادر سے رتو ڈیرو تک شاہراہ کی تعمیر مکمل ہو جائے گی ، گوادر بندر گاہ پر کارگو اور کینٹینر کے ساتھ ساتھ آئل گیس ، کیمیکل ، لوہے اور ایل این جی کے ٹرمینل بنانا بھی ماسٹر پلان کا حصہ ہے ، گوادر کو پانی کی فراہمی کے لئے دو ڈیموں کی تعمیر جاری ہے جن کے ذریعے گوادر کو ساڑھے 7 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو پاکستان کے لئے گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے ۔ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کے طول و عرض میں اچھے معاشی اثرات پڑیں گے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر ہے جہاں عالمی معیار کی بندرگاہ اور ائیر پورٹ کی تعمیر جاری ہے ۔ گوادر کو سڑک کے ذریعے چین اور وسط ایشیائی ممالک سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے ۔
بڑے بحری راستے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر بندرگاہ کے باعث گوادر عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ گوادر بندر گاہ گہرے اور گرم پانی میں ہونے کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے جو خلیجی ریاستوں سے تیل کی برآمدات کا واحد راستہ ہے ۔ دنیا بھر میں چالیس فیصد تیل کی ترسیل اسے راستے سے ہوتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق گوادر کو اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ملک کے دیگر شہروں کے ساتھ منسلک کرنے کا کام جاری ہے ۔ سال 2016 کے آخر تک گوادر سے کوئٹہ اور گوادر سے رتو ڈھیرو تک شاہرات کی تعمیر مکمل ہو جائے گی ۔ اس حوالے سے چیئرمین گوادر بندرگاہ دوستانی جمالدینی کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ کو دنیا کی بہترین بندرگاہوں میں سے ایک بنانا ہمارا ویژن ہے ۔ بندرگاہ پر صرف کارگو اور کینٹینر کے ٹرمینل ہی نہ ہوں گے بلکہ آئل ، گیس ،کیمیکل ، آئرن اور ایل این جی کے ٹرمینلز بھی ماسٹر پلان کا حصہ ہیں ۔ منصوبوں پر ایک ایک کرکے کام جاری ہے ۔ چیئرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ زینگ باؤزنگ کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبوں میں مقامی آبادی کے بھرپور کردار اور فلاح و بہبود کو ترجیح دی جارہی ہے ۔
اقتصادی راہداری کے ذریعے گوادر کی مقامی معیشت کو ترقی دینا اولین ترجیح ہے ۔رپورٹ کے مطابق مقامی ماہی گیر بنیادی سہولتوں کی التجا کر رہے ہیں ان افراد کا کہنا ہے کہ صرف سنتے ہیں کہ گوادر ترقی کر رہا ہے لیکن یہاں لوگ پانی اور بجلی سے محروم ہیں اگر کچھ کرنا ہے تو سب سے پہلے مقامی افراد کو بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں ۔رپورٹ کے مطابق گوادر کو دنیا کا بہترین شہر بنانے کے لئے ماسٹر پلان تیار ہو چکا ہے جب کہ سمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے پر سٹڈی جاری ہے ۔ منصوبے کے تحت شہر کو تمام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا ۔ پانی اوربجلی شہر کے دو بڑے مسئلے ہیں جن کے خاتمے کے لئے حکام پر عزم ہیں ۔ ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے کہ گوادر کے قریب دو ڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں سے پائپ لائن کے ذریعے گوادر کا ساڑھے سات میلن گیلن پانی فراہم کیا جائے گا ۔(م د)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…