منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عامر، آصف اور سلمان کی جائیداد ضبط کرنے کی درخواست مسترد

datetime 17  فروری‬‮  2015 |

لاہور…….آئی سی سی سے (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) سے سزا یافتہ کرکٹر محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کی جائیداد ضبط کرنے کی درخواست لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ملزمان کو ان کے کیے کی سزا مل چکی ہے۔

ہائی کورٹ میں شہری احمد کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کی حرکت سے پاکستان اور کرکٹ کی بدنامی ہوئی عدالت ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کرے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمود مقبول باجوہ نے ریمارکس دیے کہ تینوں کرکٹرز کو ان کے کیے کی سزا مل چکی ہے اور ملزمان کو بار بار سزا نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس محمود مقبول نے کہا کہ بار بار سزا بچوں کو دی جاتی ہے بڑوں کو نہیں۔

جس پر عدالت نے اثاثے ضبط کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

یاد رہے کہ عامر نے تقریباً تین سال قبل اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئی سی سی کو اس جرم میں شریک افراد کے نام بتائے اور آئی سی سی کے بھالی کے عمل کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ لیکچر بھی لیے۔

سن 2010 میں لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے بدنام زمانہ ٹیسٹ میچ میں پیسوں کے عوض جان بوجھ کر نوبال کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2011 میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تینوں کھلاڑیوں پر جرم ثابت ہونے پر انہیں جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ سلمان بٹ کو 10 سال، محمد آصف کو سات سال اور محمد عامر کو پانچ سال سزا سنائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…