اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

افغان پناہ گزین کیمپ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں ، سرتاج عزیز

datetime 21  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہاہے کہ پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے کیمپس دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکے ہیں ، افغان پناہ گزین پاکستان کے لیے سیکیورٹی کا مسئلہ ہیں ، فاٹا میں اپنی رِٹ دوبارہ قائم کرلی ہے لیکن افغان بارڈر ابھی تک کھلا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے قبائلی علاقے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزین پاکستان کے لیے سیکیورٹی کا مسئلہ ہیں کیونکہ بے قاعدہ نقل وحرکت کی بناء پر افغان پناہ گزینوں کے کیمپ ‘دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانے’ بن چکے ہیں۔افغان مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ عمل بتدریج مکمل ہوگا اورپاکستان کو اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغان وفد اور پاکستان کے سفارتی عملے کے درمیان ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی اوردونوں فریقین نے بارڈر مینجنمنٹ کا طریقہ کار مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے سرتاج عزیز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اب تک اْن پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے، جو افغانستان میں روس کے حملے کے وقت اپنائی گئی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ اْس وقت 5 ملین افراد افغانستان سے منشیات اور اسلحہ لے کر یہاں آئے، جس سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ مشیر برائے امور خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا اور اْس وقت اْن مجاہدین کو، جنھیں ہم نے، امریکا نے اور دیگر ممالک نے مل کر تیار کیا تھا، افغانستان سے باہر نکال کر ہمارے قبائلی علاقوں میں بھیج دیئے گئے جس کے بعد یہاں خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کا آغاز ہوا،
جس کے نتجے میں اب تک 7 ہزار سے زائد پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہندوستانی بالادستی کو مسترد کیا ہے اور اپنے مفادات اور کشمیر، جوہری معاملات اور خطے میں روایتی توازن کے حوالے سے اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری اور اہم مفادات کی حفاظت ایک قوم کے طور پر ایک بڑی کامیابی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…