اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اورلینڈومیں ہم جنس پرست کلب پر حملے کا ولن اگر عمر متین تھا تو اس کہانی کا ایک ہیرو بھی ہے اور وہ ہیرو بھی ایک مسلمان ہے، رپورٹ کے مطابق اورلینڈو کلب میں باؤنسر کی حیثیت سے کام کرنے والے ’’عمران یوسف ‘‘ نے سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائیں، عمران یوسف سابق امریکی میرین فوجی ہیں اور اس وقت وہ کلب میں باؤنسر کی نوکری کر رہے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی، میوزک کی وجہ سے ساتھیوں نے یہی سمجھا کہ شاید فائرنگ کی آواز میوزک کا حصہ تھی لیکن عمران یوسف سابق فوجی ہونے کی وجہ سے فائرنگ کی آواز کو پہچان گئے اور بروقت لوگوں کی مدد کیلئے پہنچ گئے، اس وقت کلب کے عقبی دروازے پر لوگوں کا ایک ہجوم جمع تھا جو دروازہ باہر سے بند ہونے کی وجہ سے اسے کھولنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے، عمران یوسف نے کلب کے عقبی دروازے کو دھکے مار مار کر توڑ دیا اور لوگوں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔سوشل میڈیا ویب سائٹس پر عمران یوسف کو اس واقعے کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران یوسف کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ خاص نہیں کیا البتہ بروقت ایک قدم اٹھا لیا تھا۔
ہم جنس پرست کلب پر حملہ ‘ کس مسلمان’’ہیرو‘‘ نے سینکڑوں جانیں بچائیں؟جان کر حیران رہ جائیں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مشہور بھارتی اداکارہ ٹریفک کے المناک حادثے میں چل بسیں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
-
عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی ! حکومت کا 24 ہزار فونز خریدنے کا اعلان
-
محلے دار نے بھتیجے کے گھر آئی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
حمزہ علی عباسی کی بہن نے لاکھوں ڈالرز اور درہم کیسے بیرون ملک منتقل کئے؟ الزامات کی تفصیلات
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
دوستی نہ کرنے پر فٹ بالر نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا
-
خلیجی ممالک نے عراق سے اہم مطالبہ کر دیا
-
رجب بٹ کا ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب کو دوٹوک جواب، تنازع شدت اختیار کر گیا
-
آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کررہے ہیں: فنانشل ٹائ...



















































