اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

طور خم بارڈر کشیدگی، پاک فوج نے زبردست اعلان کر دیا

datetime 14  جون‬‮  2016 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر سید ابرار حسین شاہ کو طلب کرکے طورخم بارڈر پر فائرنگ اور کشیدہ صورت حال پر شدید احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ پاکستان کے گیٹ تعمیرکے معاملے پر دونوں ممالک میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق منگل کے روز افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر ابرار حسین شاہ کو افغان وزارت خارجہ نے طورخم بارڈر پر فائرنگ کے تبادلے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا بھا رت کے زیر سا یہ افغان وزارت خارجہ نے پاکستان پر الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان نے طورخم بارڈر پر گیٹ تعمیر کرنے کے معاملے پربا ر ڈر مینجمنٹ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے افغانستان معاہدے کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا ۔ ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق پاکستان کے طورخم بارڈر پر زیر تعمیر گیٹ پاکستانی سرحدی حدود کے 37 میٹر اندر ہے یہ گیٹ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ضروری ہے افغان فورسز نے طورخم پر پاکستانی حدود میں بلااشتعال فائرنگ کی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…