جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

افغان حزب اسلامی کے حامی ومخالف لائیوشومیں ایک دوسرے پر پل پڑے،مہمانوں کی تلخ کلامی اورہاتھا پائی کے مناظر کی فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ،سوشل میڈیا پر تبصرے

datetime 10  جون‬‮  2016 |

کابل(این این آئی)ٹی وی چینلوں پر ہونے والے پروگرامات اور ’سیاسی شوز‘ میں اختلاف رائے کے باعث مہمانوں میں باہمی تکرار معمول کی بات ہے مگر بعض اوقات معاملہ تلخ کلامی سے آگے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک تماشا افغانستان کے ایک ٹی وی شو میں اس وقت پیش آیا جب ’معزز‘ مہمان حزب اسلامی کی حمایت اور مخالفت میں بات کرتے ہوئے ایک دوسرے پر پل پڑے تھے۔افغان میڈیا کے مطابق ٹاک شو میں ہونے والے ’دنگل‘ کی ایک جھلک سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک ویڈیو فوٹیج سے ہو رہی ہے۔ فوٹیج کے مطابق یہ واقعہ افغانستان سے پشتو میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 1 پر پیش آیا۔افغان سماجی کارکنوں نے افادہ عامہ کے لیے دونوں معزز مہمانان گرامی کی تلخ کلامی اور اس کے بعد ہاتھا پائی کے مناظر پرمبنی فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئرکیا جا رہا ہے۔ فی الحال ٹی وی مہمانوں کی لڑائی پر مشتمل یہ مختصر فوٹیج سامنے آئی ہے تاہم آئندہ چند ایام میں پروگرام کے دیگر حصے بھی انٹرنیٹ پر پوسٹ کردیے جائیں گے۔افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹی وی شو کے دوران دو مہمانوں میں تو تکرا اس وقت شروع ہوئی جب گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کو حکومت میں شمولیت سے متعلق ایک سوال پر مہمان حزب اسلامی کی حمایت اور مخالفت میں آپس میں الجھ پڑے۔پروگرام میں شریک ایک دانشور کا کہنا تھا کہ حزب اسلامی اور اس کے سربراہ گل بدین حکمت یار 14 سال سے افغان فورسز اور نیٹو کے خلاف برسرجنگ رہے ہیں۔ اب ان کے ساتھ مصالحت کیوں کر کی جاسکتی ہے۔ چار میں سے تین افراد نے حکمت یار کے ساتھ مفاہمت پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ مفاہمت کی صورت میں حزب اسلامی کا ریاستی اداروں میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے جب کہ شریک گفتگو ایک شخصیت نے حزب اسلامی کی حمایت زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کرنے کی بھی کوشش کی۔خیال رہے کہ حزب اسلامی کا قیام سنہ 1975ء میں اس وقت عمل میں لایا گیا تھا جب حکمت یار پاکستان میں جلاوطنی کی زندگی گذار رہے تھے۔ اس جماعت کے قیام کا مقصد افغانستان میں داؤد خان کے خلاف سیاسی جدود جہد کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…