نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے اس امر کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ پر دباو ڈالنے کی غرض سے انسانی امداد میں کٹوتی کی کوئی دھمکی دی ہے تاکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک اور گروپوں کی فہرست سے نکلوایا جاسکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دھمکیوں یا دھونس کو استعمال نہیں کرتے ہیں اور ہم نے فنڈنگ سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے سعودی عرب کی وضاحت کا غلط مطلب لیا ہے اور انھوں نے اس کو ایک دھمکی سمجھا ہے۔میں آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ ڈرانا ،دھمکانا ہمارا طرزعمل اور ثقافت نہیں ہے۔ہم اقوام متحدہ کے اداروں ،اس کے سیکریٹریٹ کا بہت احترام کرتے ہیں اور یقینی طور پر بین کی مون کا بھی احترام کرتے ہیں۔
عبداللہ المعلمی نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے اقوام متحدہ پر فیصلہ واپس لینے کے لیے دباو ڈالا ہے اور انسانی امداد کی شکل میں دیے جانے والے کروڑوں ڈالرز روک لینے کی دھمکی دی تھی۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پْرعزم ہے اور وہ عالمی ادارے کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اس کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ کہا تھا کہ سعودی عرب اور اتحاد کے ساتھ اس طرح کے غیر منصفانہ سلوک اور اس کا ممنوعہ فہرست میں شمار کرنے سے ہمارے اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن ہم نے اْنروا یا کسی اور کے فنڈز روکنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی۔انھوں نے کہاکہ میں سیکریٹری جنرل کا بہت احترام کرتا ہوں۔انھوں نے اس تمام گفتگو کا کیا مفہوم سمجھا ہے اور اس کی کیا تشریح کی ہے،
یہ اب ان پر منحصر ہے۔ادھراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ سعودی اتحاد کا نام ادارے کی بلیک لسٹ سے عارضی طور پر خارج کرنے کی وجہ اس اتحاد کے حامیوں کی جانب سے مختلف پروگرامز کے لیے دیے جانے والے فنڈز روکے جانے کی دھمکی تھی۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے یمن جنگ میں بچوں کے حقوق کی پامالی سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد وہاں جنگ کرنے والے سعودی اتحاد کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا۔قوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل اور تکلیف دہ فیصلہ تھا جو مجھے کرنا پڑا۔ اس اقدام کے لیے ان پر بہت دباؤ تھا۔انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے فنڈز کو روکے جانے کی صورت میں شام، فلسطین، سوڈان اور یمن سمیت بہت سی دوسری جگہوں پر لاکھوں بچے متاثر ہوتے۔اگرچہ بان کی مون نے سعودی اتحاد کا نام لسٹ سے خارج کیے جانے کے اقدام کے بارے میں کہا ہے کہ یہ عارضی طور پر کیا ہے تاہم اپنے بیان میں انھوں نے یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ جائزے کے بعد اتحاد کے نام کو دوبارہ سے اس لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ سیکریٹری جنرل کو اس فیصلے کے باعث انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تحفظات کے بعد ان کا ادارہ اس لسٹ میں موجود ’دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں‘ میں فرق کرنے کے لیے بہتر راستہ دیکھ رہا ہے۔
فنڈزروکنے کی دھمکی پر سعودی عرب کا نام بلیک لسٹ سے نکالا،اقوام متحدہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
ایک گانے کی وجہ سے ملک بھر میں گرفتاریاں، 36 سال پرانا گانا منچلوں کو مہنگا پڑ گیا
-
19 سے 22 مئی کے دوران ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیش گوئی
-
عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
-
الرجی، خون کی کمی اور انفیکشن کے مریضوں کیلئے اہم الرٹ جاری
-
عید الاضحیٰ پر رواں سال 5 سے 6 سرکاری چھٹیوں کا امکان
-
غیر ملکی جوڑے نے قصور کےخاندان کو 130 سالہ غلامی سے نجات دلا دی
-
’’بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں‘‘، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا
-
’’عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو واشنگٹن سب کچھ معاف کر دے گا‘‘ پاکستانی سفیر کا مبین...
-
منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی
-
بجٹ 27۔2026 میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس شرح میں کمی کی تجویز
-
منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
14سالہ لڑکے کو دوست نے زیادتی کے بعد ہلاک کردیا



















































