بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

منفرد کام کی شوقین ہوں، بہت جلد اپنا نیا روپ دکھاؤں گی

datetime 7  جون‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی) اداکارہ وماڈل سوہائے علی ابڑو نے کہا ہے کہ میں نے اپنے فنی سفرکاآغاز تھیٹرسے کیا اورکئی برس تک اس سے وابستہ رہی، اس کے بعد میں نے ٹی وی ڈراموں میں قدم رکھا اور پھراپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے مطابق مختلف اورمنفرد کردارنبھائے۔انھوں نے کہا کہ منفرد کام کی شوقین ہوں، بہت جلد اپنا نیا روپ دکھاؤں گی جہاں تک بات فلم میں کام کرنے کی ہے تومیں سمجھتی ہوں کہ ہرکوئی فلم میں ہی کام کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ ڈراموں کی شوٹنگ اور فلم کی عکسبندی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دونوں شعبوں میں کام کااندازبہت الگ ہے۔ ان خیالات کااظہارانھوں نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ سوہائے علی نے کہا کہ مجھے کسی بھی نئے پروجیکٹ میں کام کرنے کی پیشکش ہوتو میرے لیے سب سے زیادہ ضروری میرا کردار اورسکرپٹ ہوتا ہے۔میرے نزدیک ہالی وڈ یا بالی وڈ کے نام زیادہ اہمیت نہیں رکھتے بلکہ وہ پروجیکٹ زیادہ اہم ہوتا ہے جس کوکرتے ہوئے مجھے خود بھی مزہ آئے۔ انھوں نے کہا کہ میرا فوکس ٹی وی پرہوگا یا فلم میں اس کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ، اس لیے فی الحال تویوں لگتا ہے کہ مجھے دونوں ہی شعبوں میں کام کرنا ہے۔ جہاں تک بات آرٹ اورکمرشل فلم کی ہے تومجھے کمرشل فلموں میں ہی نہیں بلکہ آرٹ فلم میں بھی کام کرنا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک ہی طرح کا کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ کچھ ہٹ کر منفرد کام کروں تاکہ ناظرین اورفلم بین جب مجھے کسی نئے پروجیکٹ میں دیکھیں توانھیں یہ محسوس نہ ہوکہ وہ کوئی پرانا کردار دیکھ رہے ہیں۔سوہائے علی نے مزید کہا کہ بہت چھوٹی عمرمیں ہی ڈانس کی تربیت لینا شروع کردی تھی۔ میں نے دوبرس تک کلاسیکل رقص سیکھا اورپھر اپنی تعلیم کی وجہ سے اس سے دوررہی مگرمیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے ایکٹنگ سے زیادہ ڈانس کرنا پسند ہے ، اسی لیے جب مجھے فلم میں ڈانس کرنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہیں ہوتی۔ ویسے بھی ایک فنکار کے لیے ضروری ہے کہ اس کووہ تمام کام آئیں جس کی کسی بھی لمحے ضرورت پڑ سکتی ہے۔ میں اس کے علاوہ تکنیکی شعبوں کوسیکھنے اورسمجھنے کی بھی کوشش کرتی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…