جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

محمد علی عام شخص نہیں تھے،مرنے سے قبل آخری سال انتہائی سخت وقت گزارا ٗ کس بیماری میں مبتلا رہے؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  جون‬‮  2016 |

نیویارک (این این آئی)سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن محمد علی کے ڈاکٹرنے کہاہے کہ انھوں نے مرنے سے قبل ’آخری سال میں انتہائی سخت وقت گزارا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تین مرتبہ کے عالمی چمپئن محمد علی کے خاندان والوں نے کہا کہ وہ 32 سال تک پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا رہے اور ان کی موت نامعلوم قدرتی وجوہات سے ہونے والے سیپٹک شاک سے74 سال کی عمر میں ہوا۔ابراہم لیبرمین جو علی کے آخری لمحات میں ان کے پاس تھے کا کہنا ہے کہ محمد علی کے آخری ہفتہ خاص طور پر ان پر بہت سخت گزرا اس سے یہ ظاہر ہوا کہ خدا انھیں چاہتا تھا اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑا۔لیبرمین نے بتایا کہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ برا ہونے والا ہے تاہم آپ امید کرتے ہیں کہ آپ اسے شکست دے دیں گے اور محمد علی وہ تھے جنھوں نے ہمیشہ مشکل چیزوں کا سامنا کیا۔ وہ ایک عام شخص نہیں تھے۔وہ اپنے عقائد کیلئے کھڑے ہوئے اور جو انھوں نے سوچا وہ صحیح تھا۔ انھوں عاجز اور بڑی سے بڑی شخصیت کے ساتھ یکساں برتاؤ رکھا جو کہ ٹھیک تھا۔ابراہم لیبرمین نے کہا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کے وہ رنگ کے اندر جیسے تھے اس کے مقابلے میں وہ رنگ سے باہر بہت اچھے تھے۔میں نے ایک بہترین دوست کھو دیا۔ ایریزونا میں محمد علی پارکنسن سینٹر کے ڈائریکٹر ابراہم لیبرمین نے اس خیال کو کہ محمد علی کی بیماری کی وجہ صرف اور صرف باکسنگتھی کو مسترد کیا۔انہوں نے کہاکہ میرا نہیں خیال کہ اس سے مدد ملی تاہم میرے خیال میں آہستہ آہستہ کئی سالوں میں یہ بڑھ گئی ٗان کے مطابق وہ لوگ جو ڈیمنیشیا پگلسٹیکا میں مبتلا ہوتے ہیں عموماً تین سے چار سال میں مر جاتے ہیں۔ محمد علی کو پارکنسن تھا اور وہ 30 سال زندہ رہے ٗیہ ان کے جسم کے ایک حصے سے شروع ہوا، ایم آر آئی میں ان کا دماغ قدرے بہتر دکھائی دے رہا تھا ٗمیں آپ کو بتا سکتا ہوں کے اس میں باکسنگ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ان میں باقاعدہ پارکنسن کے جراثیم موجود تھے۔محمد علی کے ڈاکٹر کو ایک پرانا واقعہ یاد آگیا جب محمد علی نرسنگ ہوم میں آئے اور ایک بزرگ شخص نے انھیں غلطی سے ایک اور عظیم باکسر جو لوئس سمجھ لیا تھا۔محمد علی نے اس پر کہا کہ اگر اس بزرگ شخص کو اس بات سے خوشی ملتی ہے کہ وہ لوئس سے ملے تو پھر میں جو لوئس ہوں۔ڈاکٹر ابراہم نے کہا کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ محمد علی ایک عظیم شخص تھے لیکن مہربان تھے۔ جن میں لوگوں کے لیے بہت رحم کے احساسات موجود تھے۔انھوں نے بتایا کہ علی کی بیماری کے دوران ان کے خاندان والوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ابراہم کے مطابق ان کی بیماری بڑھ رہی تھی تاہم ان کے خاندان والے ان کے ساتھ تھے جنھوں نے انھیں اسی معیار کی زندگی دی جیسی کے آپ گزار رہے ہیں۔نھیں مات نہیں دے سکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…