اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

رمضان المبارک کا مقصدبدنی اور روحانی عبادات کے ذریعے انسانوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے،صدرممنون حسین

datetime 6  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)صدرمملکت ممنون حسین نے کہاہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، مقصدبدنی اور روحانی عبادات کے ذریعے انسانوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے، اجتماعی زندگی میں دونوں مقاصد اپنے پیش نظر رکھنے ہیں تاکہ وطن عزیز کو خوشیوں اور امن و آسودگی کا گہورارہ بنایا جاسکے ، ذاتی زندگی میں اپنی تربیت اور تزکیے کے ذریعے خود کو اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بنانا ہے تاکہ حقوق اللہ کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکے اور اپنی اجتماعی تربیت اس لیے کرنی ہے، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے اور مختلف وجوہات کے سبب مسائل سے دوچار مسلمانوں کے حق میں دعا کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب میں نظم و ضبط ، اتحاد و یگانگت اور محبت و اُخوت پیدا فرمائے۔رمضان المبارک کے آغازپرقوم کے نام پیغام میں صدر نے کہاکہ اللہ رب العزت نے ہمیں ایک بار پھر رمضان المبارک کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع عطا فرمایا ہے جس پر ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لاتے ہیں اور اس بابرکت مہینہ کے آغاز پر پوری ملت اسلامیہ اور پاکستانی قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺکے ارشاد کے مطابق رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے جس کا مقصدبدنی اور روحانی عبادات کے ذریعے انسانوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے تاکہ وہ مغفرت اور شفاعت کے حق دار بن جائیں۔ تقویٰ کا مطلب اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں اسی محتاط طرزِ زندگی کی تربیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادات ذاتی زندگی میں بھی انسان کا تزکیہ کرتی ہیں اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ ہمیں یہ دونوں مقاصد اپنے پیش نظر رکھنے ہیں تاکہ وطن عزیز کو خوشیوں اور امن و آسودگی کا گہورارہ بنایا جاسکے ۔ ذاتی زندگی میں ہمیں اپنی تربیت اور تزکیے کے ذریعے خود کو اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بنانا ہے تاکہ حقوق اللہ کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکے اور اپنی اجتماعی تربیت اس لیے کرنی ہے تاکہ حقوق العباد کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکے جن کی ادائیگی کے بغیر بخشش ممکن ہی نہیں۔ انسان پر عائد ان دونوں حقوق کی ادائیگی سے ہی معاشرہ جنت نظیر بن سکتا ہے اور اس طرح کے مسائل سے نمٹنا ممکن ہو جاتا ہے جن سے ان دنوں قوم دوچار ہے۔میری خواہش ہے کہ اہل وطن انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے اور مختلف وجوہات کے سبب مسائل سے دوچار مسلمانوں کے حق میں دعا کریں ۔ اللہ تعالیٰ رمضان و عبادت کے ان قیمتی لیل و نہار کے طفیل ضرور ہماری دعائیں قبول فرمائے گا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب میں نظم و ضبط ، اتحاد و یگانگت اور محبت و اُخوت پیدا فرمائے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے ہم سب کو مستفید فرمائے ،آمین۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خلوص نیت کے ساتھ اپنے وطن کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے جلیل القدر بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنا دیں، آمین۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…