اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان اظہار یکجہتی کیلئے مجلس وحدت المسلمین کے دھرنے میں پہنچ گئے

datetime 22  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ان کے دھرنے اوربھوک ہڑتالی کیمپ میں پہنچ گئے اور خیبر پختونخوا کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مجھے تو خیبرپختونخوا میں جاری ظلم و ستم کا آج علم ہواہے،ڈی آئی خان میں ایک دہشت گرد تنظیم پھر سے منظم ہوگئی ہے،لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کا فرض ہے،خیبرپختونخوا حکومت مجلس وحدت المسلمین سے مکمل تعاون کرے گی۔ مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے کپتان کو بھی صحیح رپورٹ نہیں دی،مجھے سب سے زیادہ شکوہ عمران خان سے تھا جو اب دور ہوگیا،امید کرتا ہوں کہ پشاور،ہنگو،کوہاٹ اورڈی آئی خان کے بے گناہ افراد کے قاتل کیفر کردار تک پہنچیں گے۔ہفتہ کو عمران خان مجلس وحدت المسلمین کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو خیبرپختونخوا میں ظلم کا آج علم ہوا ہے، ڈی آئی خان میں ایک دہشت گرد تنظیم پھر سے منظم ہوگئی ہے۔ پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کا فرض ہے،خیبرپختونخوا حکومت علامہ راجہ ناصر عباس اور ایم ڈبلیو ایم سے مکمل تعاون کرے گی،معاملے کو اپپکس کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ کے پی کے اور اتحادی حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کراتاہوں،ایم ڈبلیو ایم کے نمائندے کی وزیراعلی اورآئی جی سے ملاقات کراؤں گا۔انہوں نے کہا کہ سورن سنگھ خطرے کے باوجود بونیر میں رہے۔ہماری حکومت نے پولیس کو غیرسیاسی بنایااوراسی وجہ سے سورن سنگھ کے قاتلوں کو24گھنٹے میں گرفتارکیا گیا۔قبائلی علاقے کی طرف سے شدت پسند آتے ہیں اورکے پی میں لوگوں کو قتل کرکے واپس روپوش ہوجاتے ہیں۔عمران خان نے علامہ ناصر عباس کو یقین دہانی کروائی کہ ایم ڈبلیوایم کے تمام تحفظات دور کئے جائیں گے۔ علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بے گناہ افراد کے قتل پر بھوک ہڑتال کر رہے ہیں ، جب تک ہمارے بے گناہ افراد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہو گی تب تک دھرنے سے نہیں جاؤں گا۔ کے پی کے حکومت کا مسئلہ حل ہونے پر شکریہ ادا کر کے جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ امیدکرتا ہوں پشاور، ہنگو،ڈی آئی خان اور کوہاٹ کے قاتل کیفرکردار تک پہنچیں گے،پنجاب میں بھی ہزاروں مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے ۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے کپتان کو بھی صحیح رپورٹ نہیں دی ۔ مجھے سب سے زیادہ شکوہ عمران خان سے تھامگر اب ان کے آنے سے مطمئن ہوں۔(م ق)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…