اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ محمودقریشی،پرویزرشید،خورشید شاہ کا اعلان،تنازعے کا ڈراپ سین،تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 18  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت اور حزب اختلاف میں پاناما لیکس کے ٹی او آرز کے حوالے سے 12 رکنی کمیٹی پر اتفاق ہوگیا ہے ٗ (آج)ایوان میں تحریک کے ذریعے کمیٹی کی منظوری لی جائیگی ٗ بارہ ارکان کے انتخاب کے بعد کمیٹی کا طریقہ کار بھی طے ہو جائیگا جبکہ پرویز رشید نے کہاہے کہ حکومتی نام ابھی فائنل نہیں ہوئے ٗ حکومت اتحادیوں سے مشاورت کے بعد نام فائنل کریگی ۔نجی ٹی وی ائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اپوزیشن کی جانب سے سید خورشید شاہ، اعتزاز احسن، غلام بلور، شاہ محمود قریشی، اسرار اللہ زہری ، حکومت کی جانب سے پرویز رشید، اسحاق ڈار ،خواجہ آصف ،وزیر قانون زاہد حامد، سعد رفیق اور حاصل بزنجو ٗ ایم کیو ایم کے ارکان آصف حسنین اور علی رضا عابدی مذاکرات میں شریک ہوئے۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا کہ کمیٹی میں 6 اراکین حکومت ٗ 6 اپوزیشن کے ہوں گے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ جمعرات کو ایوان میں تحریک کے ذریعے کمیٹی کی منظوری لی جائیگی ٗ 12 ارکان کے انتخاب کے بعد کمیٹی کا طریقہ کار بھی طے ہوجائے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا وزیراعظم نے اسپیکر کو پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی۔ اسمبلی کی اجازت کے بعد کمیٹی اپنا کام شروع کر دیگی ٗ پارلیمانی کمیٹی کیلئے حکومتی نام ابھی فائنل نہیں ہوئے۔ حکومت اتحادیوں سے مشاورت کے بعد نام فائنل کریگی۔انہوں نے کہاکہ تجاویز مرتب کرنے کیلئے کمیٹی کو دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا جو ٹی او آرز طے کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی پاناما لیکس ٗآف شور کمپنیز سمیت قرضے معاف کرانے اور کک بیکس کے معاملے کا بھی جائزہ لے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہاکہ سپیکر نے ٹی او آرز کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے اجلاس طلب کیا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان شریک ہوئے ،اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن میں ٹی اوآرز کمیٹی پر مذاکرات کامیاب ہو گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی تین معاملات کی چھان بین کرے گی جن میں منظر عام پر آنے والی تمام آ ف شور کمپنیاں،قرضے معافی اور کک بیکس و کمیشن کے معاملات شامل ہو نگے ۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ارکان شامل کیے جائیں گے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد اس کی سر براہی کے معاملہ بھی طے پا جائیگا ٗکمیٹی کو دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا کہ وہ اپنی سفارشات ایوان میں پیش کر دے۔دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے 6 نام دے دیئے ہیں جن میں اعتزاز احسن، آفتاب شیر پاؤ، شاہ محمود قریشی، طارق بشیر چیمہ، صاحبزادہ طارق اللہ اور غلام احمد بلور شامل ہیں۔ سید خورشید شاہ نے بتایا کہ ایم کیو ایم کا نمائندہ کمیٹی میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب وہ یہ فیصلہ کر لے گی کہ آیا وہ اپوزیشن کا حصہ ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے چار ساتھی شریک ہوئے اور تبادلہ خیال میں حصہ لیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے اپوزیشن سے الگ ہونے پر وضاحت مانگی تو متحدہ کے ارکان نے کہا کہ پاناما پیپرز کے معاملے پر اپنے آپ کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں ٗٹی او آرز پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے 2ہفتوں کا پابند ہے ،اگر ٹی او آرز پر اتفاق ہو جاتا ہے تو انہیں سب کے سامنے لایا جائے گا ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو مختصر گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سپیکر چیمبر میں تفصیلی مشاورت ہوئی ہے جس کے بعد 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا ہے جو پانامہ پیپرز کے حوالہ سے تحقیقات کیلئے ٹی او آرز طے کرے گی۔ کمیٹی میں چھ ارکان کا تعلق حکومت اور چھ اپوزیشن سے ہو گا جو اپنے قیام کے بعد 15 دنوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز بنانے کے بعد تحقیقات سپریم کورٹ کے ذریعے ہی کرانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم بھی پی ٹی آئی کے ساتھ سڑکوں پر جانے پر مجبور ہوں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…