اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

علیم خان نے پانامالیکس میں آف شور کمپنیوں میں نام آنے پر اپنی کمپنی کا اعتراف کر لیا

datetime 9  مئی‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) چیر مین تحر یک انصاف کے ایڈ وئزر عبدالعلیم خان نے پانامالیکس میں آف شور کمپنیوں میں نام آنے پر اپنی کمپنی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کمپنی کو پہلے ہی اپنے اثاثوں میں ڈکلیئر کر چکا ہوں‘وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کو چیلنج کردیا ہے کہ میں اپنے بیرون ملک اثاثہ جات فروخت کرکے پاکستان لے آتا ہوں آپ بھی لے آئیں‘ ہرسال کمپنی کے اثاثے کو ظاہر کرتاہوں‘ میرے لندن میں چار فلیٹس ہیں ،جن کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوں، کمپنی کے آدھے شیئرز میرے نام پر جبکہ اور آدھے میری اہلیہ کے نام پر ہیں‘جس نے حساب کرنا ہے ، آکر کرلے ۔سوموار کے روز لاہور میں پر یس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے عبد العلیم خان نے کہا کہ پاناما لیکس کی خبر میں تین بار نام آگیا حالانکہ میرے تمام اثاثہ جات ڈکلیئرڈ ہیں‘تین بار نام آگیا‘ کمپنی کا نام ٹیکس گوشواروں میں شامل ہے‘ کمپنی کا نام ٹیکس گوشواروں میں شامل ہے ایف بی آر کو بھی فہرست دے چکا ہوں میرا ایک ایک اثاثہ ڈکلیئرڈ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہرسال کمپنی کے اثاثے کو ظاہر کرتاہوں ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ میرے لندن میں چار فلیٹس ہیں جن کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوں، کمپنی کے آدھے شیئرز میرے نام پر جبکہ اور آدھے میری اہلیہ کے نام پر ہیں ۔جس نے حساب کرنا ہے ، آکر کرلے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران تحقیقات میں دن رات صر ف کررہے ہیں‘میرے خلاف ن لیگ نے باقاعدہ سیل قائم کررکھا ہے ‘چار اپریل ، انیس اپریل اور پھر اب نام آگیاہے‘میرے ان صحافی بھائی کوکون میرا نام یاد کراتاہے؟انہوں نے کہا کہ لیکس اسے کہتے ہیں جو چھپی ہوئی ہو میں تو پہلے ہی اس کمپنی کا بتا چکا تھا‘ میرے خلاف اس لیئے سازشیں کی جا رہی ہیں کیونکہ میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی صورت عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا‘چاہے مجھے گرفتار کرا لیں ،مقدمات کرادیں یا ایف بی آر اور نیب میں کیسز چلا دیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی اخبار کے صحافی کو خبر شائع کرنے پر مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس کا نام بتائیں جو آپ کو مجبور کررہے ہیں کہ میرا نام شامل کیا جائے۔انہوں نے صحافی کے خلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…