پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

یورپی بینکوں سے معاہدہ،بھارت ایران کو چھ ارب ڈالراداکرے گا

datetime 7  مئی‬‮  2016 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی مرکزی بینک کا یورپی بینکوں کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت تہران حکومت سے خام تیل کی خریداری کرنے والا ملک بھارت تقریبا ساڑھے چھ ارب یورو کے بقیہ جات ادا کر سکے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2011 میں بین الاقوامی طاقتوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے تہران کے خلاف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان پابندیوں میں یہ بھی شامل تھا کہ ایرانی تیل کے خریدار لین دین کے لیے بینکوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔اب رواں برس جنوری سے ایران کے خلاف عائد ان پابندیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ایران جلد از جلد اپنے اس سرمائے کو حاصل کرنا چاہتا ہے، جو دوسرے ملکوں کے ذمے واجب الادا ہے۔ ایران کو یقین ہے کہ اربوں ڈالر کی ادائیگیوں کے بعد اس کی جاں بہ لب معیشت بحال ہو سکے گی اور اس اقدام سے ایرانی شہریوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔ اس کے علاوہ ایرانی حکومت اس بات پر بھی خوش ہے کہ وہ دوبارہ عالمی اقتصادی نظام کا حصہ بننے جا رہی ہے۔قبل ازیں بھارت کی آئل ریفائنریز ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے ایران کو رقوم کی ادائیگیاں کرتی رہی ہیں لیکن سن دو ہزار تیرہ میں یہ سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا اور ابھی تک بھارتی درآمدی کمپنیوں کے ذمے خریدے گئے ایرانی خام تیل کی مد میں پچپن فیصد رقوم واجب الادا ہیں۔بھارتی وزارت خزانہ نے بتایا کہ ایران اور بھارت کے مرکزی بینکوں کے مابین ایک معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس کے تحت یورپی بینکوں کا کردار کلیئرنگ ایجنٹوں کا ہو گا۔ ہم رقوم یورپی بینکوں کو ٹرانسفر کریں گے اور وہ انہیں آگے ایرانی بینکوں کو۔پابندیوں سے پہلے ایران بھارت کو تیل فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ بھارت نے اس سال یکم اپریل کو اپنے لیے یہ ہدف رکھا تھا کہ وہ اب ایران سے چار لاکھ بیرل خام تیل یومیہ خریدا کریگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…