پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

دفتر خارجہ نے آئی ایس آئی سے مدد مانگ لی، جانئے کیوں

datetime 6  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد( نیوزڈیسک )گزشتہ 18 ماہ سے سائبر حملوں کے واقعات کے بعد دفتر خارجہ نے ہیکرز کے حملے سے بچنے کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔عہدیدار نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے بیرون ملک مشنز سے محفوظ مواصلات کے لیے، حکومت سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 8 کروڑ روپے مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔سائبر سیکیورٹی کے لیے درخواست کی گئی رقم، ان اضافیاخراجات سے 130 فیصد زیادہ ہے جو دفتر خارجہ اپنی عمارت اور احاطے کی سیکیورٹی کے لیے ساڑھے 3 کروڑ روپے کی صورت میں حاصل کر رہا ہے۔عہدیدار کا خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ہیکرز کے حملوں سے تحفظ کی ذمہ داری آئی ایس آئی انجام دے گی۔وزارت خارجہ کی جانب سے یہ قدم گزشتہ ڈیڑھ سال میں تین بڑے سائبر حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔سائبر سیکیورٹی کے لیے اضافی اخراجات کی درخواست وزارت خارجہ کے شعبہ آئی ٹی کو مزید مضبوط بنانے اور اسے جدید آلات سے لیس کرنے کے لیے کی گئی ہے۔وزارت خارجہ کے عہدیدار نے کمیٹی کو بتایا کہ سائبر حملوں سے بچنے کے لیے ہم پہلے ہی اقدامات اٹھا رہے ہیں، لیکن ہماری ویب سائٹ، ای میلز اور سرورز مسلسل سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ آئی ایس آئی، سائبر سیکیورٹی کی ذمہ داری کا کچھ حصہ اپنے منظور شدہ کانٹریکٹرز کو سونپ دے، لیکن وزارت خارجہ نے اس مقصد کے لیے خود سے کبھی کسی نجی فرمز کی خدمات حاصل نہیں کیں۔کمیٹی کے بعد ارکان نے آئی ایس آئی کو یہ ذمہ داری چلنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔اراکین کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ سائبر سیکیورٹی کی ذمہ داری دیئے جانے کے باوجود آئی ایس آئی کو دفتر خارجہ کے معاملات میں محدود رسائی حاصل ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…