ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کو مسترد کردیا، مشاورت سے بنانے کی پیشکش

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کو مسترد کردیا ہے اور ٹی او آرز مشاورت سے بنانے کی پیشکش کردی ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ٹی اوآرز کے معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں،اپوزیشن کے ساتھ اس معاملے پر اتفاق نہ ہوا تو یہ کیس آگے نہیں بڑھ سکتا، اپوزیشن اپنوں کو بچانا اور وزیر اعظم کو پھنسانا چاہتی ہے،انکے ٹی او آرز کا مقصد کرپشن کو سامنے لانا نہیں بلکہ صرف وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناناہے ، سچ کو قوم کے سامنے آنے دیا جائے، سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی حکومت تسلیم کرے گی۔ وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں وزیر قانون زاہد حامد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ پانامہ لیکس پر کھیل تماشا چاہتے ہیں۔ کیس شور شرابے اور بہتان تراشی کی نذر نہ کیا جائے۔ حکومت کیس کی تفتیش کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اپوزیشن کا ایک گروہ کا ہدف کرپشن نہیں بلکہ ایک شخصیت ہے‘ وہ اس شخصیت کو متنازعہ بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن سچ کو قوم کے سامنے آنے دے دیواریں اور رکاوٹ کھڑی نہ کرے‘ عوام کو کنفیوژ نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس پر اپوزیشن محض بیان بازی اور وزیراعظم کا منطقی انجام چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی جاتے عمران خان سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام آباد میں ایک پر امن جلسہ ہوا لیکن عمران خان کے اس بیان پر افسوس ہوا کہ تحریک انصاف کے جلسہ میں بدتمیزی پنجاب پولیس کی معاونت سے ہوئی ہے۔ خواتین سے بدتمیزی کے معاملہ پر کمیٹی بنانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم میاں نواز شریف خود کو پہلے ہی احتساب کیلئے پیش کر چکے ہیں ان کے اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں جس طرح دوسری جماعتوں کے رہنمائوں کے اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سنجیدگی سے انکوائری چاہتی ہے اور نہ ہی کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے اعلیٰ ادارہ کوئی نہیں ہے ۔ ٹی او آرز سے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو کسی ادارے پر اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کوئی چیز ثابت ہوئی تو گھر چلے جائیں گے۔ اپوزیشن کے ٹی او آرز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی اور ملک میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ اور عوام کو گمراہ نہ کیا جائے ۔ اپوزیشن بتائے کہ انہیں سپریم کورٹ پر اعتبار نہیں۔ ہر چیز کا حکومت پر الزام لگانا وطیرہ بن چکا ہے۔ اس موقع پر وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اپوزیشن کے ٹی او آرز پڑھ کر مایوسی ہوئی ۔ اپوزیشن نے ٹی او آرز صرف وزیراعظم کی شخصیت کو محور بنا کر بنائے گئے ہیں۔ مندرجات کے الفاظ سے اپوزیشن کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے اور یہ سنجیدہ دستاویزات بھی نہیں لگتیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ٹی او آرز میں فیصلہ بھی سنا دیا ہے ۔ وزیراعظم سے تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ بھی بدنیتی ہے۔ انہوں نے پہلے سے مائنڈ بنا کر وزیراعظم کو قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ٹی و آرز مسترد کرنے کے باوجود ٹی او آرز پر مشاورت کیلئے تیار ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…