منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

جہانگیرترین، علیم خان اور پیپلز پارٹی کا بچہ ٗشہبازشریف انتہائی سخت باتیں کرگئے

datetime 1  مئی‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک )وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ایکسپو سنٹر میں بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کیلئے خدمت کارڈز کے اجراء کی تقریب کے دوران ایک بار پھر قرضے معاف کرانے اور قومی دولت لوٹنے والوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ احتساب اب نہیں تو پھر کبھی نہیں، سب کا کڑا احتساب وقت کی آواز ہے۔ وزیراعلیٰ نے خان صاحب کے دائیں بائیں بیٹھنے والے جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور پیپلز پارٹی کے بچے کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیراعلیٰ کا خطاب انتہائی پرجوش اور جذباتی تھا ۔وزیراعلیٰ نے خان صاحب کے دست راست جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کی کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قرضے معاف بھی کراتے ہیں ‘ آف شور کمپنیاں بھی بناتے ہیں اور احتساب کا شور بھی مچاتے ہیں۔ بڑے خان صاحب آپ تھک جاؤگے لیکن میں قرضے معاف کرانے والوں اور قومی دولت لوٹ کر ملک کو کنگال کرنے والوں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لا کر رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غریب قوم اور محنت کشوں کی خون پسینے کی کمائی ہے۔ کس قدر منافقت اور دوغلاپن ہے کہ قوم کی دولت لوٹنے والے اور قبضے کرنے والے احتساب کے بارے میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک بچے کی جانب سے وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے پر کہا کہ اس بچے کے والد کے دور حکومت میں لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ قومی دولت عوام پر خرچ کرنے بجائے اپنی جیبیں بھری گئیں۔ اگر ان کے والد کے ایک بھی میگا سکینڈل کی تفصیلات سامنے آ گئیں تو شاید وہ چپ سادھ کر لاڑکانہ جا بیٹھیں، لہٰذا اس بچے کو سوچ سمجھ کر زبان کھولنی چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر کے اختتام پر قرضے معاف کرانے والوں کے بڑے محلات، لمبی گاڑیوں اور بیرونی دوروں پر اربوں روپے خرچ کرنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے:خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہیے اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیے ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہیے خواہشوں کو خوبصورت شکل دینے کے لئے خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہیے ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…