پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی،خطرناک ترین انتباہ

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) حساس اداروں نے شہر قائد میں پولیس پر دپشت گردوں کی جانب سے بڑے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ملک دشمن عناصر نے پڑوسی ممالک سے ایک ہفتے قبل 11 سے زائد خودکش بمبار پاکستان میں داخل کرائے ہیں۔داخل ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم، لسانی اور مذہبی جماعتوں سے بتایا جاتا ہے۔اس ضمن میں حساس اداروں نے پولیس کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دہشت گرد سندھ پولیس کے تربیتی مراکز، اعلیٰ افسران کے دفاتر، پولیس چوکیوں اور پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ جس کے بعد سندھ پولیس نے شہر بھر میں اسنیپ چیکنگ، گشت اور تلاشی کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے پولیس حکام کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کا گروہ سندھ پولیس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کرچکا ہے۔ منصوبہ ساز دہشت گردوں کا تعلق کالعدم، لسانی و مذہبی جماعتوں سے ہے۔دہشت گرد کاررائیوں کے دوران ویسٹ زون کے علاقے اورنگی ٹاؤن،منگھو پیر بلدیہ، ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اجمیر نگری، سر سید، نیو کراچی، ملیر زون میں گڈاپ ٹاؤن جبکہ ایسٹ زون میں سہراب گوٹھ اور شہر کے مضافاتی علاقے شامل ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مسلسل نگرانی میں مصروف ہیں اور خاص ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں یا بڑی گاڑیوں کا استعمال کرسکتے ہیں تاہم شہر بھر میں پولیس اہکاروں کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گشت کے دوران بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ لازمی پہنا جائے جبکہ پولیس سپاہی عام پبلک مقامات اور ہوٹلوں پر بیٹھنے سے گریز کریں۔ اسنیپ چیکنگ کے دوران بھی الرٹ کھڑے ہوں اور تھوڑی دیر بعد اپنی جگہ تبدیل کریں۔ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں جبکہ ویجیلنس نظام کے تحت اسپتالوں، شاپنگ سینٹروں، بازاروں اور تفریحی مقامات کے اطراف میں سیکورٹی بڑھائیں اور مشکوک اشیاء دیکھتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد حاصل کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…