اسلام آباد/لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کی قیادت سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور پانامہ لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال پر بات چیت کی جس میں دونوں جماعتوں کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کیلئے حکومتی ٹی او آرز مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں اور احتساب کا آغاز وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان سے ہونا چاہئے۔ اس امر کا اظہار ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا گیا۔ ملاقات میں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی، سید خورشید شاہ، چودھری اعتزاز احسن، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر سعید مندوخیل، اکرم ذکی، نوابزادہ یوسف خان ہوتی، سینیٹر سعید غنی، اعجاز جاکھرانی اور سید نوید قمر بھی شریک تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شکر ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں 1947ء سے احتساب کا کہا ہے، قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ڈاکٹر علامہ اقبالؒ سے احتساب کی بات نہیں کر دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے دولخت ہونے کے بارے میں جسٹس حمود الرحمن کمیشن سمیت آج تک جتنے کمیشن بنے ہیں ان سے کوئی حل نہیں نکلا، کسی کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی، اتنا وقت اور سرمایہ صرف کرنے کے بعد عوام کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کیا بنا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس حکومت اور اپوزیشن کو مل کر بنانے چاہئیں، انہیں میڈیا پر ریلیز کیا جائے اور وہی قابل قبول ہوں گے جبکہ کمیشن کی رپورٹ کا منظرعام پر آنا اور اس سے عوام کو آگاہ کرنا لازمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر پاکستان مسلم لیگ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف نے 1947ء سے احتساب کی جو بات کی ہے اس کا مطلب تو احتساب سے انکار ہے۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ میں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کا مشکور ہوں ہم نے کھل کر بات کی ہے، ہمارا اتفاق ہے ٹی او آرز کو نہ صرف دونوں جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے، پانامہ لیکس پر عوام میں اضطراب ہے، قوم جاننا چاہتی ہے کہ اتنی بھاری رقوم باہر کیسے گئیں جن سے فلیٹس خریدے گئے اور وزیراعظم کا خاندان ان کی ملکیت کا معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹی او آر میں تاخیر کے حق میں نہیں ہیں، کمیشن کا نکتہ آغاز وزیراعظم اور ان کا خاندان ہی ہونا چاہئے۔