منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اگر پاکستان نہ ہوتا تو آپ کرپشن کہاں کرتے ؟ سوال پر ڈاکٹر عاصم آپے سے باہر ہوگئے

datetime 25  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) دہشت گردوں کی معاونت کے مقدمے میں سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی۔تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں کے سہولت کار کے الزام میں سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کوپیر کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ۔ جیل حکام ڈاکٹر عاصم کو سخت حفاظتی اقدامات میں بکتربند میں عدالت لائے ۔ سماعت شروع ہوئی تو ڈاکٹر عاصم عدالت میں موجود تھے لیکن سرکاری وکیل موجود نہیں تھے ۔ عدالت سرکاری وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت 6 مئی تک ملتوی ہوئی ۔ڈاکٹر عاصم نے عدالت کو درخواست دی ہے کہ مجھے کاغذات کی تعمیل کے لئے یو اے ای کے سفارتخانے جانے کی اجازت دی جائے ۔ ڈاکٹر عاصم نے عدالت سے کہا کہ مفرور ملزم عبدالحمید کی دبئی سے واپسی کے لئے میرا یو اے ای کے سفارتخانہ جانا ضروری ہے ۔ سفارتخانے جا کر کاغذات پر دستخط کروں گا تو ملزم عبدالحمید فری ہوجائے گا ۔ کاغذات پر دستخط ہونے سے دبئی میں عربی شیخ عبدالحمید کو پاکستان آنے کی اجازت دیگا ۔ عدالت نے کہا کہ اس درخواست کی سماعت منگل کو ہوگی ۔اس سے قبل احتساب عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ جیل میں ہونے کے باوجود پاکستان کے لئے دعائیں کرتا ہوں، اگر پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں جس پر ایک ٖصحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا اگر کوئی شخص جیل میں ہوتا ہے تو پاکستان کے لئے دعا نہیں کرتا جس پر ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ اگر کوئی بے قصور جیل میں ہو تو وہ دعائیں نہیں کرتا، پاکستان ہے تو ہم ہیں جس پرصحافی نے کہا کہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو آپ کرپشن کہاں کرتے جس پر ڈاکٹر عاصم چراغ پا ہوگئے تاہم پولیس نے معاملہ رفع دفع کرادیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…