اسلام آباد(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کے خلاف ماڈل ایان علی کی توہین عدالت کی درخواست نمٹاتے ہوئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔پیر کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں2 رکنی بنچ نے ماڈل ایان علی کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکال کر دوبارہ ڈالنے پر وزارت داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ماڈل کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ماڈل ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بعد دوبارہ شامل کیا اور یہ صرف ان کے موکل کے ساتھ ہی نہیں بلکہ عدالت کے ساتھ بھی فراڈ ہے، کنفرم ٹکٹس کے باوجود ایان علی کو بیرون ملک جانے نہیں دیا گیا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ماڈل ایان علی نے بین الاقوامی معاہدے کر رکھے ہیں اور اگر وہ نہ گئیں تو انہیں 10 ملین ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا اس لئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہ ہائیکورٹ کا معاملہ ہے اور بہتر ہے کہ آپ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔ عدالت نے ماڈل ایان علی کی درخواست نمٹاتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائیکورٹ جلد سے جلد اس معاملے پر فیصلہ سنائے۔
سپریم کورٹ کا صاف صاف جواب، ایان علی کو دوسرا راستہ دکھا دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
ملک بھرکے بجلی صارفین کیلئے بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا
-
تمام تعلیمی ادارے 24 اگست تک بند رہیں گے! اعلان ہوگیا
-
رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ اہم فلکیاتی پیشگوئی سامنے آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)
-
لاہور میٹرو بس سروس 11 اگست سے بند کرنے کا اعلان
-
سوشل میڈیا صارفین کیلئے نادرا کی سخت وارننگ
-
سعودی عرب ‘فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 مزدور جاں بحق ہوگئے
-
پاکستان میں عید میلادالنبی ؐکی تاریخ کب ہوگی؟
-
مرونل ٹھاکر کی خود سے 10 سال چھوٹے کرکٹر سے تعلق کی افواہیں، اداکارہ کا ردعمل آگیا
-
رونالڈو کی شادی دیکھنے ہزاروں افراد چرچ پہنچے، دولہا دیکھ کر حیران رہ گئے
-
عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ
-
سمندری طوفان ڈولفن نے جاپان اور چین میں تباہی مچادی
-
بیٹے نے غیرت کے نام پر اپنی بوڑھی ماں اور 60 سالہ شخص کوہلاک کر دیا



















































