جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اہم ترین معاہدے پر175ممالک نے دستخط کر دئے، معاہدہ کیا ہے؟جانئیے

datetime 24  اپریل‬‮  2016 |

پیرس(نیوزڈیسک)دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے تاریخی معاہدے پر 175 ممالک نے دستخط کردیئے ہیں۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق جمعے کو عالمی رہنماو¿ں کا اس موقع پر ماننا تھا کہ عالمی طور پر درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے مزید اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ عالمی طور پر زمین کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک بڑھ چکا ہے اور گلیشیئر پگھلنے سے سمندر کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، ایسے موقع پر پیرس میں ہونے والا معاہدہ دنیا کے تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنائیں۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘دنیا وقت کے خلاف دوڑ میں شامل ہے’، ‘نتائج کے بغیر استعمال کا دور ختم ہو چکا ہے، آج آپ مستقبل کے ساتھ ایک نئے عہد پر دستخط کررہے ہیں، اب اس معاہدے کے تحت وعدوں سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے’۔خیال رہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز اس وقت ہوگا جب اس میں نمائندگی کرنے والے 55 ممالک جو عالمی طور پر 55 فیصد کا حصہ ہیں، اس میں شمولیت اختیار کرلیں گے، اس حوالے سے سرگرمیوں کا آغاز 2020 میں متوقع ہے۔تاہم اس اعلامیے کی میزبانی کرنے والوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شاید اس کا آغاز رواں سال کے آخر میں ہوجائے۔مذکورہ تقریب گذشتہ روز ارتھ ڈے یا دنیا کے دن کے موقع پر منعقد کی گئی، جس میں وہ تمام ممالک شامل تھے جو دیگر حوالوں سے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 ممالک نے گذشتہ روز ہی اس معاہدے کی توثیق بھی کردی ہے۔عالمی وسائل انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ تاہم وہ ممالک جنھوں نے مذکورہ معاہدے پر دستخط کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے ان میں تیل کی پیداوار کرنے والا سب سے بڑا ملک سعودی عرب، عراق، نایجیئریا اور قزاقستان شامل ہیں۔پیرس معاہدہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت ہے جس سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان کئی سالوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے میں مدد ملی کہ انھیں ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے کیا کرنا ہے۔مذکورہ معاہدے کے مطابق اس پر دستظ کرنے والے تمام ممالک کو کاربن ڈائی اوکسائیڈ اور دیگر گرین ہاو¿س گیسز کے اخراج کو کم کرنے کیلئے خود سے اپنے اہداف کی نشاندہی کرنی ہے۔مذکورہ اہداف قانونی طور پر حتمی نہیں ہیں اور ان کو ہر پانچ سال میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…