پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

اہم ترین معاہدے پر175ممالک نے دستخط کر دئے، معاہدہ کیا ہے؟جانئیے

datetime 24  اپریل‬‮  2016 |

پیرس(نیوزڈیسک)دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے تاریخی معاہدے پر 175 ممالک نے دستخط کردیئے ہیں۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق جمعے کو عالمی رہنماو¿ں کا اس موقع پر ماننا تھا کہ عالمی طور پر درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے مزید اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ عالمی طور پر زمین کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک بڑھ چکا ہے اور گلیشیئر پگھلنے سے سمندر کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، ایسے موقع پر پیرس میں ہونے والا معاہدہ دنیا کے تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنائیں۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘دنیا وقت کے خلاف دوڑ میں شامل ہے’، ‘نتائج کے بغیر استعمال کا دور ختم ہو چکا ہے، آج آپ مستقبل کے ساتھ ایک نئے عہد پر دستخط کررہے ہیں، اب اس معاہدے کے تحت وعدوں سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے’۔خیال رہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز اس وقت ہوگا جب اس میں نمائندگی کرنے والے 55 ممالک جو عالمی طور پر 55 فیصد کا حصہ ہیں، اس میں شمولیت اختیار کرلیں گے، اس حوالے سے سرگرمیوں کا آغاز 2020 میں متوقع ہے۔تاہم اس اعلامیے کی میزبانی کرنے والوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شاید اس کا آغاز رواں سال کے آخر میں ہوجائے۔مذکورہ تقریب گذشتہ روز ارتھ ڈے یا دنیا کے دن کے موقع پر منعقد کی گئی، جس میں وہ تمام ممالک شامل تھے جو دیگر حوالوں سے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 ممالک نے گذشتہ روز ہی اس معاہدے کی توثیق بھی کردی ہے۔عالمی وسائل انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ تاہم وہ ممالک جنھوں نے مذکورہ معاہدے پر دستخط کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے ان میں تیل کی پیداوار کرنے والا سب سے بڑا ملک سعودی عرب، عراق، نایجیئریا اور قزاقستان شامل ہیں۔پیرس معاہدہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت ہے جس سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان کئی سالوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے میں مدد ملی کہ انھیں ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے کیا کرنا ہے۔مذکورہ معاہدے کے مطابق اس پر دستظ کرنے والے تمام ممالک کو کاربن ڈائی اوکسائیڈ اور دیگر گرین ہاو¿س گیسز کے اخراج کو کم کرنے کیلئے خود سے اپنے اہداف کی نشاندہی کرنی ہے۔مذکورہ اہداف قانونی طور پر حتمی نہیں ہیں اور ان کو ہر پانچ سال میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…