پشاور (نیوز ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پانامہ لیک کے انکشافات و الزامات کی تحقیقات کیلئے اے این پی ہی نے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا مطالبہ سب سے پہلے کیا تھا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خود کو خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ کسی بھی پاکستانی کی بیرونی ملک جائیداد، کاروبار، خفیہ اکاؤنٹس اور آف شور کمپنیوں کے بارے میں بھی کمیشن کا دائرہ کار وسیع کرکے تحقیقات سے قوم کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ بیان میں اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے کمیشن کے قیام کے خط لکھنے کے بعد اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں تو کمیشن کے سامنے پیش کئے جائیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنا غیر آئینی ہے۔ مخالفت برائے مخالفت اور جواب الجواب کے ذریعے غیر جمہوری رویے کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے شواہد پیش کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جس طرح کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے کمیشن کے قیام کے ساتھ ہی میاں نواز شریف خود پیش ہونے میں پہل کریں اور خاندان کو بھی پیش کرنے کی اچھی مثال قائم کی جائے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی اپنی سیاسی تاریخ اور جمہوری روایت کو قائم رکھتے ہوئے نظریاتی و سیاسی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم میاں نواز شریف کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کو سراہتی ہے اگر الزامات ثابت ہوگئے تو وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ہی اے این پی کرے گی۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ کہ بدعنوانی اور امانت میں خیانت قوم کے ناقابل معافی جرائیم ہیں۔ احتساب سب کیلئے یکساء کے ون پوائنٹ ایجنڈے کے تحت مجوزہ کمیشن کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی قائم کرنے کی روایت ڈالنی ہوگی۔ کوئی شخصیت اور ادارہ آئین اور قانون سے بالا تر نہیں۔ ضیاء الحق دور میں افغان جہاد میں آنے والے ڈالروں ، بیرون ملک بنائی جانے والی جائیدادوں، مشرف دور میں ہڑپ کی جانے والی اربوں ڈالر رقوم ، مالی بندر بانٹ کرنے والی شخصیات ، پارٹیوں ، گروپوں ، گروہوں کے کاروبار ، جائیدادوں اور اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ سرکاری چھتری میں سیاست میں لائے گئے سائیکل برداروں کے صنعت کار بننے ، قومی بنکوں سے اربوں روپے معاف کرنے والوں، سرکاری اداروں سے منتخب حکومتیں گرانے کے لئے فنڈ ز فراہم کرنے کا اعتراف کرنے والوں اور جمہوری حکومتوں کے خلاف پچھلے دس سالوں میں تحریکوں ، دھرنوں ، جلاؤ گھیراؤ کے اخراجات کی فرانزک تحقیقات ہونی چاہیے۔
وزیر اعظم اور ان کا خاندان تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر خود پہل کریں، اسفندیار ولی خان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
بچوں کے ب فارم ۔۔ والدین کے لئے بڑی خبر
-
کیا رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے اضافہ ہونے جا رہا ہے؟اوگرا نے بتا دیا
-
کیا پٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی؟ وزیر خزانہ کا اہم بیان سامنے آ گیا
-
جمعتہ الوداع کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
-
رکشہ اور موٹر سائیکل کا چالان کرنے پر پابندی عائد
-
پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں 3ماہ کی توسیع
-
عرب ملک نے تارکین وطن کے لیے دروازے کھول دیئے
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے؟ پینٹاگون کا بڑا اعتراف
-
کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ فاروق ستار کا حیران کن دعویٰ
-
گورنر سندھ کا موٹرسائیکل سواروں کو عید تک 3 لیٹر پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان
-
بجلی صارفین کے لیے نیا ضابطہ کار جاری، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
سری لنکا نے سابق پاکستانی کوچ کی خدمات حاصل کرلیں



















































