منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ترقیاتی منصوبوں کے نام پرلوٹ مار کس نے کی؟ شہبازشریف کھل کر بول پڑے

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے سابق حکمرانوں نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پرلوٹ مار کرکے صوبے کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ،اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر پیش رفت اورلاہور رنگ روڈسدرن لوپ کے منصوبے کے امور کا جائزہ لیاگیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیزرفتار ترقی کیلئے جدید ذرائع مواصلات بہت ضروری ہیں ۔پنجاب حکومت صوبے بھرمیں ذرائع مواصلات کی بہتری پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے ۔صوبے بھر میں انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے نہایت شفاف طریقے سے مکمل کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بہترین انفراسٹرکچرسے کاروباری اورتجارتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔پنجاب حکومت صوبے بھر میں سڑکوں ،پلوں اورانڈرپاسز کا جال بچھا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کیلئے لاہوررنگ روڈ کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔لاہور رنگ روڈکے ناردرن لوپ کی تکمیل سے ٹریفک کے مسائل کم کرنے میں مدد ملی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاہور رنگ روڈ کا سدرن لوپ کا منصوبہ بھی تیزرفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔صوبے میں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت بروقت اورمعیاری تکمیل کی پالیسی پر کاربند ہیں ۔لاہور رنگ روڈسدرن لوپ کو بھی اسی پالیسی کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سابق حکمرانوں نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پرلوٹ مار کرکے صوبے کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ہم نے ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کر کے اعلی مثالیں قائم کی ہیں۔ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو ہارٹی کلچر کے ذریعے دیدہ زیب اورخوبصورت بنایا گیا ہے ۔اجلاس میں ناردرن لوپ پر ہربنس پورہ انڈر پاس اورعبداللہ گل انٹرچینج کی تزئین آرائش کی منظوری دی گئی۔کمشنر لاہور ڈویژن نے لاہوررنگ روڈ سدرن لوپ کے منصوبے کے امور پر بریفنگ دی۔چےئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹریز تعمیرات و مواصلات،قانون،خزانہ،ڈی جی ایل ڈی اے ،چیف انجینئر لاہور رنگ روڈ اتھارٹی اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…