منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چھوٹو گینگ نے یرغمال پولیس اہلکاروں کیساتھ کیا سلوک کیا؟ سب پتہ چل گیا

datetime 18  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) صوبہ پنجاب کی ضلع راجن پور میں جرائم پیشہ ’چھوٹو گینگ‘ نے یرغمال بنائے گئے 24 پولیس اہلکاروں میں سے چند کو رہا کرتے ہوئے بقیہ اہلکاروں کی رہائی کے بدلے محفوظ راستے کا مطالبہ کردیا۔تاہم باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مجرمان نے اہلکاروں کی رہائی کے بدلے گینگ کے سرغنہ کے خاندان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جسے مسترد کردیا گیا اور گینگسٹر کو ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے کی آخری وارننگ دی گئی ہے۔دریائے سندھ کے جزیرے میں محصور چھوٹو گینگ کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے اور پاک فوج، ایس ایس جی کمانڈوز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن میں مزید تیزی آگئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جزیرے کی طرف بڑھنے کے بعد گینگسٹرز اگلی پوزیشنز چھوڑ کر گھنے جنگل میں بھاگ نکلے ہیں، جس کے بعد ایس ایس جی کمانڈوز کو فیصلہ کن آپریشن کا گرین سنگل دے دیا گیا ہے۔صورتحال کے پیش نظر راجن پور اور رحیم یار خان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اتوار کے روز کوبرا ہیلی کاپٹرز سے شدید شیلنگ اور علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرون کیمرا اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد سیکورٹی فورسز نے آگے کی جانب پیش قدمی کی اور مجرمان کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لیے آرمی کے کمانڈوز نے دھواں بموں کا استعمال کیا۔تاہم ذرائع نے چھوٹو گینگ کی جانب سے رہا کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد اور دیگر تفصیلات نہیں بتائی۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیز نے چھوٹو گینگ اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی مبینہ طور پر معاونت کرنے والے 6 بلوچ سرداروں کو ضلع راجن پور سے گرفتار کرلیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں چھوٹو گینگ سے مبینہ تعلق پر مقامی پارلیمنٹیرینز سے بھی تفتیش کا امکان ہے۔رحیم یار خان میں پنجاب پولیس کے آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ چھوٹو گینگ کے 100 سے زائد سہولت کاروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ مجرمان کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے والے پولیس افسران کی فہرست بھی مرتب کرلی گئی ہے، اور اگر ان پر الزام ثابت ہوا تو انہیں عبرت ناک سزا دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…