منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج نے چھوٹو گینگ کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا ،ہتھیار ڈالنے پر مشروط آمادگی

datetime 17  اپریل‬‮  2016 |

راجن پور(نیوزڈیسک)پاک فوج نے چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن ضرب آہن کا چارج سنبھال کر پولیس اور رینجرز کی مدد سے پورے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے جب کہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ نے ہتھیار ڈالنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے۔راجن پور میں ڈاکو گروپ چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن میں پولیس کی ناکامی کے بعد پاک فوج کو طلب کیا گیا تھا جس کے بعد اب یہ آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج نے چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن ضرب آہن کاچارج سنبھال لیا ہے، پولیس اور رینجرز کی مدد سے پورے علاقے کا گھیراؤ کر لیا گیا ہے، کچے میں آپریشن کے لئے تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چھوٹو گینگ کے کارندے پولیس کی وردی میں علاقے میں گھوم رہے ہیں ، اس کے علاوہ انہوں نے 10 مغوی اہلکاروں کو پولیس چوکی سکھانی کے سامنے کھڑا کردیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی پہلے مغوی پولیس اہلکار کو نقصان پہنچے گا۔ چھوٹو گینگ کے پاس 8 اقسام کا اسلحہ اور ہزاروں کلو گرام بارودی مواد موجود ہے۔ گینگ کے پاس موجود اسلحے میں ہیوی میشن گن، ایس ایم جیز ، ایل ایم جیز اور ہزاروں کی تعداد میں دیگر اسلحہ موجود ہے۔دوسری جانب ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو نے کہا ہے کہ وہ پیدائشی ڈاکو نہیں، اس نے پولیس کے ظلم کی وجہ سے ہتھیار اٹھایا، پولیس نے اسے دہشت گرد ، ملک دشمن اور نجانے کیا کچھ بنا دیا،اس نے یہ جنگ صرف اپنی برادری کواس کا حق دلانے کے لئے شروع کی تھی۔ وہ ملک دشمن نہیں کہ اس کے خلاف فوج کارروائی کرے۔ جب تک آپریشن میں پولیس شامل ہے۔ اگر پولیس آپریشن میں شامل رہی تو وہ مقابلہ کرتے ہوئے مرجانے کو ترجیح دے گا لیکن کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گا۔چھوٹو کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی ہتھیار ڈال دیں تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اسے خود فون کرکے یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر اس کے گناہوں کی سزا بھی عسکری حکام ہی دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…