بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایئرپورٹ پرحملہ،جنید جمشید نے بھی آخر کارجوابی قدم اُٹھالیا

datetime 27  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) مشتعل افراد کاحملہ،جنید جمشید نے بھی آخر کارجوابی قدم اُٹھالیا، ملبوسات کے معروف برانڈ کے مالک جنید جمشید نے بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر مشتعل افراد کے حملہ کرنے اورتشدد کا نشانہ بنانے ¾ نازیبا زبان استعمال کرنے اورجملے کسنے پربالاخر جوابی قدم اٹھالیا،تھانہ ائیر پورٹ میں حملہ آوروںکے خلاف مقدمہ درج کر نے کےلئے درخواست دائر کر دی ہے جنید جمشید نے بتایا کہ ملزمان میرے سامنے آجائیں تو پہچان لونگا پولیس کے مطابق ویڈیو کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کرلیا جائیگا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو رات گئے جنید جمشید بے نظیر انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر پہنچے تو اس دوران 8 سے 10 افراد نے ان پر جھپٹ کر حملہ کر دیا حملہ کرنے والے افراد نے متعدد بار جنید جمشید کو گھونسے مارے ایک لمحے کےلئے ان کو چھوڑا گیا تاہم پھر دوبارہ ان کو پکڑنے کی کوشش کی۔مشتعل افراد جنید جمشید کے خلاف مشتعل افراد نعرے لگا رہے تھے ¾حملہ کرنے والے افراد کا دعویٰ تھا کہ جنید جمشید نے اسلام کی مقدس شخصیت کی توہین کی ہے ۔اس موقع پر موبائل فون سے ویڈیو بنانے والا شخص حملہ کرنے والوں کو شاباش دیتا رہا ۔اس موقع پر جنید جمشید زیادہ تر خاموش رہے اور ہجوم کی جانب سے ہونے والی تنقید اور الزامات سنتے رہے۔جنید جمشید حملہ ہونے کے بعد واپس لاﺅنج کی جانب بھاگ کر اپنے آپ بچایا تاہم بعد میں اے ایس ایف کے اہلکار جنید جمشید کو اپنے ساتھ دفتر میں لے گئے واضح رہے کہ جنید جمشید نے ایک ٹی وی پروگرام کے دور ان اپنے متنازع بیان پر قوم سے معافی مانگ لی تھی ۔دوسری جانب جنید جمشید نے تھانہ ائیر پورٹ میں حملہ آوروںکے خلاف مقدمہ درج کر نے کےلئے درخواست دائر کر دی ہے جنید جمشید نے بتایا کہ ملزمان میرے سامنے آجائیں تو پہچان لونگا پولیس کے مطابق ویڈیو کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کرلیا جائیگا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…