بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

دنیا میں مصرسب سے زیادہ ایک ہزار دنوں کےلئے پانی ذخیرہ کر رہا ہے ،پاکستان کی استعداد محض 30روز ہے

datetime 22  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک)دنیا میں مصرسب سے زیادہ ایک ہزار دنوں کےلئے پانی ذخیرہ کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی استعداد محض 30روز ہے ،پانی کے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی بجائے پاکستان میں زیر زمین پانی کا استعمال کئی گنا بڑھنے سے آنے والے سالوں میں انتہائی خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ بات سابق ڈائریکٹر جنرل واٹر مینجمنٹ مشتاق احمد گل نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ چین ، بھارت ،مصر اور متحدہ عرب امارات پانی کےلئے صحراﺅں کو بھی استعمال میں لے آئے ہیں اور وہاں ہر طرح کے وسائل کو استعمال میں لایا جارہا ہے جبکہ ہمارے ہاںصرف زیر زمین پانی کو استعمال میں لایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی پاکستان ایسا ملک ہے جو پانی کو سمندر میں پھینک کر ضائع کر رہا ہے ۔بد قسمتی سے ہم پانی کے دیگر ذرائع کو استعمال میں لانے کی بجائے زیر زمین پانی کو پمپنگ کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں جس کے آنے والے سالوں میں انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر دنیا میں سب سے زیادہ ایک ہزار دنوںکےلئے پانی ذخیرہ کر رہا ہے ۔ اسی طرح امریکہ بھی تقریباً تین سال کےلئے پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد رکھتا ہے ۔ بھارت 120سے 200دنوں کے لئے پانی ذخیرہ رکھتا ہے جبکہ پاکستان میں محض یہ استعداد 30روز ہے اور یہ المیہ ہے کہ ہم اپنا پانی ضائع کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…