بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ٹنڈو محمد خان میں کچی شراب پینے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد24 ہوگئی

datetime 22  مارچ‬‮  2016 |

ٹنڈومحمد خان(نیوز ڈیسک)ٹنڈو محمد خان میں کچی شراب پینے سے 6 خواتین سمیت ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئی ٗ کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ٗ چھ افراد کے لواحقین نے پوسٹمارٹم کرانے سے انکار کر دیا ٗ ٹنڈو محمد خان کے علاقے کریم آباد میں دیسی ساختہ زہریلی شراب پینے سے تقریباً 30 افراد بے ہوش ہو گئے جنھیں حیدر آباد اور ٹنڈو محمد خان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔متاثرہ افراد کو ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹنڈو محمد خان اور سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا ٗ شراب پینے سے 6 خواتین سمیت ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے، 18 افراد کا پوسٹمارٹم ہوچکا ہے ٗ 6 کے لواحقین نے پوسٹمارٹم کرانے سے انکار کردیا تاہم کئی کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔دوسری جانب پولیس نے کچے شراب بیچنے کے الزام میں 2 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے واقعے کا نوٹس لے کر ایس ایچ او تھانہ سٹی قادر بخش بہرانی کو معطل اور عہدے کی تنزلی کر دی۔پولیس کے مطابق زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر کا تعلق اقلیتی ہندو برادری سے ہے جو ہولی کے تہوار منا رہے تھے۔ٹنڈو محمد خان میں مقامی افراد نے زہریلی شراب کے کاروبار کی روک تھام نہ کرنے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر مقامی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…