منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سردی میں صرف ادرک کا قہوہ پیں اور ان بیماریوں سے چھٹکارہ پائیں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک)محکمہ زراعت پنجاب نے کہاہے کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں ادرک کی کاشت رواں ماہ مارچ جبکہ پہاڑی علاقوں میں مئی کے آخر تک مکمل کرلی جائے چونکہ ادرک غذائی اور طبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کاحامل ہے اس لئے اس کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کیلئے اقدامات کئے جائیں جس کا پودا ایک سے اڑھائی فٹ تک لمبا ہوتاہے۔ ادرک کاقابل استعمال حصہ جڑ ہے جو آلو ، شکرقندی ، ہلدی کی طرح زمین میں پیدا ہوتی ہے۔ ادرک کی تاثیر گرم و خشک ہوتی ہے جو نظام ہضم کو ٹھیک کرنے سمیت بھوک بڑھاتا ہے۔
ادرک میں 80.9 فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ جبکہ دےگراجزا میں کیلشیم ، فاسفورس ، آئرن ، کیروٹین، تھایا مےن، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں، ادرک گرم اور مرطوب آب وہوا میں بہتر افزائش کرتاہے ادرک میں موجود آکسیجن جراثیم کش ہونے کے علاوہ خون کو صاف ، ریاح ، قولنج، سونٹھ کی شکل مےں دمہ، کالی کھانسی ، پھیھپڑوں کی ٹی بی کے لیے مفید، حافظہ کو بڑھاتا ، دل ، جگر، پھیپھڑوں کو طاقت دےتا، منہ کی بدبو ختم کرکے دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ادرک میں خوشبو دار تیل پایا جاتاہے جو دل کے پھڑکنے کے مرض کے علاج کےلئے مفید ، معدہ کی تیزابیت کو ختم کرکے کھٹے ڈکاروں کو بند کرنے سمیت بہت سے جلدی امراض اور جوڑوں کے ناکارہ ذرات کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ ادرک باری کے بخار اور سردی سے ہونے والے بخاروں میں مفیدہے جسے منہ میں رکھ کر چپانا اور اس کو جوشاندہ کے طورپر شہد میں ملا کر استعمال کرنا لقوہ کے لیے مفید ہے۔انہوںنے بتایاکہ ہمارے ہاں زیادہ تر ادرک چین، برما، تھائی لینڈ ، مڈغاسکر اور بھارت سے آتاہے لہٰذاچائے کی طرح ادرک بھی یہاں اگانے کی بجائے باہر سے منگوانا پڑتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…