بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد میں بہتی گنگا،بااثر افراد کروڑوں پر ہاتھ صاف کرگئے

datetime 10  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے والے راول ڈیم کی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی نے موصول ہونے والی دستاویزات کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ قبضہ مافیا نے بنی گالہ کی طرف سے راول ڈیم کے کناروں پر حکام کی ملی بھگت سے جعلی رجسٹریاں بنوا کر ایسے پنجے گاڑھے کہ راول ڈیم ہی سکڑ گیا اور ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہو گئی۔ مافیا نے راول ڈیم کے کناروں پر موضع لکھواں میں جعلی رجسٹریاں تیار کروا کے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضہ شروع کر رکھا ہے اور وہاں پر بڑے بڑے ریستوران، شاپنگ مالز اور کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی بنگلے بنا رکھے ہیں۔دوسری جانب اسمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے بارہا نوٹسز کے باوجود قابضین جگہ خالی کرنے سے انکاری ہیں۔ اس کے علاوہ آرگنائزیشن جعلی رجسٹریاں تیار کرنے والے نائب تحصیلداروں اقبال، ظہور، نعیم، اعظم خان اور اویس کے خلاف کارروائی کے لئے اسلام آباد انتظامیہ کو کئی خطوط لکھ چکی ہے تاہم اس کے باوجود ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حاصل دستاویزات کے مطابق اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے اسلام آباد انتظامیہ کو پہلا خط 2010 میں لکھا جب کہ 2015 میں ضلعی انتظامیہ کے محکمہ مال نے بھی ایک رپورٹ بھیجی کہ راول ڈیم کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے تاہم چیف کمشنر اسلام آباد اس پر سوئے رہے۔ فروری 2016 میں اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے دوبارہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تاہم پھر بھی ڈی سی اسلام آباد کارروائی سے گریزاں رہے۔ادھر ڈی سی اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق احمد کے مطابق جب تک زمین کا مالک ہمیں شکایت نہیں کرتا تو اس وقت تک ہم خود سے کارروائی نہیں کر سکتے، مجھے پہلے کا تو نہیں پتہ البتہ حال ہی میں مجھے ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس پر ایکشن لیتے ہوئے تمام رجسٹریاں روک دی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ چائنا کٹنگ کا معاملہ نہیں ¾ زمین پر قبضے میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائےگی ¾ تحقیقات مکمل ہونے میں 8 سے 10 روز لگیں گے جس کے بعد ہی کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…