بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں بہتی گنگا،بااثر افراد کروڑوں پر ہاتھ صاف کرگئے

datetime 10  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے والے راول ڈیم کی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی نے موصول ہونے والی دستاویزات کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ قبضہ مافیا نے بنی گالہ کی طرف سے راول ڈیم کے کناروں پر حکام کی ملی بھگت سے جعلی رجسٹریاں بنوا کر ایسے پنجے گاڑھے کہ راول ڈیم ہی سکڑ گیا اور ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہو گئی۔ مافیا نے راول ڈیم کے کناروں پر موضع لکھواں میں جعلی رجسٹریاں تیار کروا کے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضہ شروع کر رکھا ہے اور وہاں پر بڑے بڑے ریستوران، شاپنگ مالز اور کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی بنگلے بنا رکھے ہیں۔دوسری جانب اسمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے بارہا نوٹسز کے باوجود قابضین جگہ خالی کرنے سے انکاری ہیں۔ اس کے علاوہ آرگنائزیشن جعلی رجسٹریاں تیار کرنے والے نائب تحصیلداروں اقبال، ظہور، نعیم، اعظم خان اور اویس کے خلاف کارروائی کے لئے اسلام آباد انتظامیہ کو کئی خطوط لکھ چکی ہے تاہم اس کے باوجود ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حاصل دستاویزات کے مطابق اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے اسلام آباد انتظامیہ کو پہلا خط 2010 میں لکھا جب کہ 2015 میں ضلعی انتظامیہ کے محکمہ مال نے بھی ایک رپورٹ بھیجی کہ راول ڈیم کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے تاہم چیف کمشنر اسلام آباد اس پر سوئے رہے۔ فروری 2016 میں اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے دوبارہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تاہم پھر بھی ڈی سی اسلام آباد کارروائی سے گریزاں رہے۔ادھر ڈی سی اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق احمد کے مطابق جب تک زمین کا مالک ہمیں شکایت نہیں کرتا تو اس وقت تک ہم خود سے کارروائی نہیں کر سکتے، مجھے پہلے کا تو نہیں پتہ البتہ حال ہی میں مجھے ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس پر ایکشن لیتے ہوئے تمام رجسٹریاں روک دی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ چائنا کٹنگ کا معاملہ نہیں ¾ زمین پر قبضے میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائےگی ¾ تحقیقات مکمل ہونے میں 8 سے 10 روز لگیں گے جس کے بعد ہی کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جا سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…