بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کوئی مرے یاجیئے ، پولیس تھانوں کے باہر حفاظت کےلئے ریت کی بوریاں نہیں دیکھنا چاہتا ، پرویزخٹک

datetime 9  مارچ‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک) وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے کہا ہے کہ کوئی مرے یاجیئے نظام کودرست کیاجائیگا، حکومت کا پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کریں گے بیرونی قرضے تب لیں گے جب اس کے منصوبے بھی شروع کریں حیران ہوں کہ حکمرانوں نے اربوں روپے کا فنڈ کہاں خرچ کیا۔ وزیر اعلی پرویز خٹک یونیورسٹی روڈ کی کشادگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سمیت تمام اداروں پر خوب گرجے اور کہا کہ چاہے کوئی مرے یا جیئے نظام کو درست کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ تمام بس سٹینڈ اور اڈوں کو موٹر وے انٹر چینج کے قریب منتقل کیا جا رہا ہے ۔این ایل سی اور ایف ڈبلیو او پر فخر ہے کاش تمام سرکاری ادارے بھی درست ہو جائیں ا ±ن منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جن سے سرکاری خزانے کو فائدہ بھی ملے وزیر اعلی نے کہا کہ کہ حکومت کا پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کریں گے بیرونی قرضے تب لیں گے جب ا ±س کے منصوبے بھی شروع کریں حیران ہوں کہ اربوں روپے کا فنڈ کہاں خرچ کیا گیا ۔انہوںنے کہا کہ نظام ٹھیک نہ کر سکا تو عوام اور عمران خان کو کیا جواب دوں گا، قسم کھاتا ہوں کہ کسی کو بھی تبدیلی کا پتہ نہیں ا ±ن کا کہنا تھا کہ کوئی اسمبلی میں ہے یا لوکل گورنمنٹ میں ہر کوئی اختیارات ہی مانگ رہا ہے ان کا کام عوام کی خدمت ہے اللہ پر یقین ہے کہ پی ٹی آئی صوبے میں دوبارہ حکومت میں آئیگی ، ملکی نظام ٹھیک ہو جائے تو تب ہی ترقی ممکن ہے وزیر اعلی نے شہریوں کو یہ خوشخبری بھی دی کہ دسمبر سے پہلے 100 اے سی کوچز تہکال روڈ پر نظر آئیں گی ۔ماسٹر ٹرانزٹ منصوبے کے لئے 18 ارب روپے کے قرضے کی منظوری دے دی ہے اپریل کے پہلے ہفتے سے حیات آباد میں فوڈ سٹریٹ کا آغاز کیا جائے گاپشاور کو خوبصورت بنانا چاہتا ہوں اس کی عظمت رفتہ کو بحال کروں گا ۔انہوں نے ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی روڈ بند نہیں ہونا چایئے ۔ پولیس تھانوں کے باہر حفاظت کےلئے ریت کی بوریاں نہیں دیکھنا چاہتاپولیس اگر اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال غصہ میں کیوں ہیں؟



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…