بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

گورنر پنجاب نے نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے بل پر دستخط کردیئے

datetime 8  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) گورنر پنجاب نے صوبے میں نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے بل پر دستخط کردیئے جس کے بعد نئے قانون کے تحت اب نجی تعلیمی ادارے از خودفیسوں میں اضافہ نہیں کرسکیں گے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تمام نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کردیا گیا ہے جب کہ بل پرگورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے دستخط کردیئے ہیں جس کے بعد صوبائی وزارت قانون نے گزٹ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ نئے قانون کے تحت پنجاب بھر میں نجی تعلیمی ادارے از خود فیسوں میں اضافہ نہیں کرسکیں گے اور فیسں میں اضافے کے لیے انہیں رجسٹریشن اتھارٹی سے اجازت لینا ہوگی۔بل کے مطابق تمام نجی تعلیمی اداروں کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کرنے کے بعد پابند کیا گیا ہے کہ رواں سال فیسوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی نے فیسوں میں اضافے کی ضرورت محسوس کی تو اسے حکومت پنجاب کی رجسٹریشن اتھارٹی کو درخواست دینا ہوگی۔ بل میں واضح کیا گیا ہے فسیوں میں اضافہ صرف 5 فیصد تک کیا جائے گا اور اگر کسی نے بلا اجازت فیس میں اضافہ کیا تو اسے 2 لاکھ سے 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا جس کی رقم صوبائی حکومت ادارے میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات میں تقسیم کردے گی جب کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسکول کو سیل کردیا جائے گا یا حکومت اسکول کو اپنے زیر انتظام لینے کی مجاز ہوگی۔نئے قانون کے تحت غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر 20 ہزار سے 20 لاکھ تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ وزارت قانون کے مطابق نوٹی فکیشن کی کاپیاں پنجاب کے تمام ای ڈی اوز ، ڈی او آفسز اور اسکول مالکان کو ارسال کردی گئی ہیں۔واضح رہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا بل 26 فروری کو پنجاب اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا جب کہ بل کے خلاف نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…