بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

80ممالک شام میں جنگجوﺅں کی مددکررہے ہیں،بشارالاسد کادعویٰ

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

دمشق(نیوزڈیسک)شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں آج کے بعد دس سال تک شام کے نجات دہندہ کے طور پر یاد رکھا جائے۔انھوں نے اس خواہش کا اظہار ہسپانوی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کیا ۔انھوں نے کہا کہ وہ ایک شرط پر جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور وہ یہ کہ باغی اور ان کے بین الاقوامی مددگار ترکی وغیرہ اس کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ دس سال میں ،میں بطور صدر شام کو بچا سکتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ان دس برسوں میں بھی صدر رہوں گا بلکہ میں صرف اپنے دس سالہ ویڑن کے بارے میں بات کررہا ہوں۔اگر شام محفوظ ومامون بن جاتا ہے اور میں ہی اس ملک کو بچاتا ہوں تو اب سے میرا یہ کام اور فرض ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر شامی عوام مجھے اقتدار میں چاہتے ہیں تو میں رہوں گا۔اگر وہ نہیں چاہتے تو میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔میرا مطلب ہے کہ میں اپنے ملک کی مدد نہیں کرسکتا ہوں۔اس لیے مجھے درست طریقے سے اقتدار چھوڑنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اس کو دہشت گردوں کو اپنی پوزیشنوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی دوسرے ممالک اور خاص طور پر ترکی کو مزید ریکروٹس ،مزید دہشت گرد ،اسلحہ یا ان دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی لاجسٹیکل امداد کو بھیجنے سے روکنے کے لیے ہونی چاہیے۔بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ان کے روسی اور ایرانی اتحادیوں کی مدد نے شامی فورسز کی حالیہ بڑی کامیابیوں اور پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمیں اس مدد کی اشد ضرورت ہے اور اس کا سادہ سا جواز ہے کہ ان دہشت گروپوں کی اسّی سے زیادہ ممالک مختلف طریقوں سے مدد کررہے ہیں۔انھوں نے ہسپانوی روزنامے سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان میں سے بعض ممالک براہ راست رقوم ،لاجسٹیکل سپورٹ ، اسلحے اور بھرتی کے ذریعے ان گروپوں کی مدد کررہے ہیں۔بعض ممالک مختلف عالمی فورموں پر ان کی سیاسی مدد کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…