جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عزیر بلوچ اپنے والد کے اغواء اور قتل کے بعد قانون شکن بنا

datetime 30  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک)لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار عذیر جان بلوچ اپنے والد کے اغواء اور بہیمانہ قتل کے بعد قانون شکن بنا۔ عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں کیسے آیا، کس نے ساتھ دیا اور اس نے کس کی حمایت سے لیاری کو جرائم کا دارالحکومت بنایا۔عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں حادثاتی طور پر آیا، جب ارشد پپو گروپ نے اس کے ٹرانسپورٹر باپ فیضو ماما کو اغوا کے بعد قتل کیا تو رحمان ڈکیت نے اسے اپنے گینگ میں شامل کرلیاپھر 2009ء میں ایک وقت وہ بھی آیا جب پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد اس نے گینگ کی سربراہی سنبھال لی۔کچھ جرائم پیشہ دوستوں کی سنگت کا اثر تھا اور کچھ سیاسی حمایت کا جادو، اس کے بعدعزیر بلوچ نےپیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اس کے مسلح کارندے کراچی کے کاروباری و صنعتی علاقوں میں خوف و دہشت کی علامت بن گئے، جہاں بھتہ خوری اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا۔فشریز میں کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن ہو یا سمندری اور زمینی راستوں سے ہونے والی منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں کیا گیا وحشیانہ قتل عام ہو، یا لوگوں کو چلتی بسوں سے اُتار کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینکنے کی بربریت، کوئی تاجر گولیوں سے چھلنی ہوا ہو، یا کسی حریف کا سر کاٹ کر فٹ بال کھیلی گئی ہو، ان سارے جرائم کے ڈانڈے عزیر بلوچ ہی سے ملائے جاتے ہیں۔دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیپلزپارٹی غیر علانیہ طور پر عزیر بلوچ کو سپورٹ کرتی رہی ہے۔عزیز بلوچ سے وزیراعلیٰ سندھ، شرجیل میمن، فریال تالپور اور دیگر کی ملاقاتیں بھی سامنے آچکی ہیں۔اس متنازع اتحاد کے شیشے میں بال 2012 ءمیں اُس وقت پڑا جب عزیر بلوچ نے پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما اویس مظفر عرف ٹپی کو لیاری سے الیکشن لڑنے سے روک دیا۔ردعمل یہ آیا کہ اپریل 2012 ءمیں لیاری گینگ وار کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا جو مقامی لوگوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق مکمل سیاسی مقاصد کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…