بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سعودی مبلغ کا خواتین کو “ننگ” قرار دینا مہنگا پڑگیا

datetime 26  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سعودی مبلغ علی المالکی کے خواتین سے متعلق تبصرے نے سوشل میڈیا پر بحث و جدل کا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ المالکی نے ایک سیٹلائٹ چینل پر نوجوانوں کے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ ” دیکھیے جو کوئی آپ کی بیٹی یا بہن سے شادی کررہا ہے وہ (آپ پر) مہربانی کرنے والا ہے کہ اس نے آپ سے عار کو اٹھا لیا، کتنے ہی والد ہیں جو آخری سانسیں لیتے ہوئے آبدیدہ ہوکر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دو یا تین رہ گئیں ہیں جب کہ کتنے ہیں جو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے میں نے امانت ادا کردی”۔ٹوئیٹر پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈاکٹر المالکی کی جانب سے لڑکیوں کے بارے میں کی جانے والی بات پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ حرم شریف کے ایک سابق امام شیخ عادل الکلبانی کا کہنا ہے کہ “بیٹی کوئی عار نہیں، بیٹی تو آگ (دوزخ) سے بچاؤ کی ڈھال ہے”۔دوسری جانب ڈاکٹر علی المالکی شدید عوامی ردعمل کے بعد اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے۔ المالکی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خواتین کی قدر و منزلت کم کرنا نہیں تھا، بعض لوگوں کے غلط سمجھنے سے ان کی بات سیاق سے باہر چلی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ “عورت تو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر شکل میں قابل احترام ہے۔ لفظ عار سے میری مراد اس کا مقابل معنی تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ میرا مطلب تھا کہ عورت ایک مرد کا اعزاز اور اس کی آبرو ہوتی ہے اور نیک آدمی سے اس کی شادی درحقیقت اس محفوظ آبرو کی نگرانی ہے”۔ادھر سعودی کالم نگار قینان الغامدی نے خواتین کو عار قرار دینے سے متعلق ڈاکٹر المالکی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ، (نام نہاد) “مذہبی مبلغ” علی المالکی کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جعلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ لوگ جو خود کو مبلغ، یا طالب علم یا واعظ کا نام دے دیتے ہیں، ان کے اپنے حاضرین اور سامعین ہوتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ مذہب کو سواری بنا کر مذہب کے نام پر باتیں بناتے ہیں”۔غامدی کے نزدیک “اس طرح کے لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت لذت حاصل کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور وہ مرد کی ملکیت ہے، اس کا مقام صرف گھر ہے … اس طرح کے لوگ طلاق کی نیت سے تین، تین عورتوں تک سے شادی کرلیتے ہیں اور پھر اپنے لیے خود ہی فتویٰ نکال لیتے ہیں”۔سعودی کالم نگار نے یہ بھی کہا کہ ہمارا معاشرہ اس طرح کے بیانات سے بیزار ہوچکا ہے جو فتنوں کی چنگاری لگا دیتے ہیں، لوگوں کی اکثریت جو ٹوئیٹر کے آنے سے پہلے خاموش تھی، اب میں اسے اس طرح کے کلام کو مسترد کرنے کے درپے دیکھ رہا ہوں”۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…