جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وزارت صحت کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی،حکام ہیک ہونے پرنہیں ،ہیکرز کی خراب انگریزی پر پریشان

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت صحت کے حکام کو اْس وقت حیرت کا جھٹکا لگا، جب اْن کے علم میں آیا کہ وزارت کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی ہے، لیکن ہیکرز کی جانب سے چھوڑے گئے پیغام نے انھیں اِس سے بھی زیادہ پریشان کردیا.ہیکرز کا پیغام ملک کے خلاف نہیں تھا اور نہ ہی اس میں وزارت صحت کے کسی اسکینڈل کو بے نقاب کیا گیا تھا. وزارت کے عہدیداران اِس وجہ سے حیران تھے کہ خود کو ‘بافخر پاکستانی’ کہنے والے ہیکرز نے اپنے پیغام میں نہ صرف الفاظ کا غلط استعمال کیا بلکہ جملے میں قواعد کی بھی بہت سی غلطیاں تھیں.وزارت کے ایک سینیئر بیوروکریٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ہیکرز کا پیغام پڑھنے کے بعد میں نے ملک کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے بارے میں سوچنا شروع کردیا’.مذکورہ بیوروکریٹ کے مطابق ،’پیغام میں بہت سی غلطیاں تھیں اور الفاظ کے چناؤ کو دیکھ کر میرا دل چاہا کہ میں اِن ہیکرز کو پرائمری اسکول بھجوا دوں’.جب ڈان نے ہیک کی گئی ویب سائٹ دیکھی تو اس پر چھوڑا گیا پیغام کچھ یوں تھا:

Rest in Peace You will be always miss. We just forget about them, InshAllah if our government didnt revenge against them we will revenge against them.

یعنی ‘اللہ آپ کو جوارِ رحمت میں جگہ دے،آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. ہم انھیں بھول گئے ہیں، انشاء4 اللہ اگر ہماری حکومت نے ان سے بدلہ نہیں لیا تو ہم ان سے بدلہ لیں گے’.پیغام میں مزید کہا گیا، ‘پشاور غم زدہ ہے. 19 جنوری 2016، ہمیں ابھی بھی یاد ہے، ہم یاد رکھیں گے اور اپنے دشمنوں کے ٹکڑے کردیں گے. جاگو پاکستان، یہ دلوں کی جنگ ہے.’ساتھ ہی لکھا تھا کہ یہ پیغام واجد، اسٹوم بوائے، بابا جی، ڈیسنٹ بوائے، رانا جی، بلال اور دیگر کی جانب سے پوسٹ کیا گیا.وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہیکرز نوعمر ہیں اور ویب سائٹ ہیک کرنے کے بعد انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل ‘تحریر’ کے علاوہ ہر شعبے میں مہارت حاصل کرسکتی ہے.ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہیئیں، دوسری جانب ہیکرز کو چاہیے تھا کہ وہ ملک دشمنوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اپنے ہی ملک کی ایک ویب سائٹ ہیک کرنے کے بجائے طالبان کی ویب سائٹ ہیک کرتے. اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اْن کی سمت بھی غلط تھی.مذکورہ عہدیدار کے مطابق ہیکرز نے اپنے پیغام میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی تاریخ بھی غلط لکھی، جو 19 جنوری کے بجائے 20 جنوری کو ہوا تھا.ایک سوال کے جواب میں مذکورہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزارت کے عہدیداران نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد ویب سائٹ بند کردی گئی.شام تک ویب سائٹ پر یہ پیغام دیکھا جارہا تھا، ‘مینٹی نینس کی وجہ سے ویب سائٹ عارضی طور پر بند ہے’.
بعد ازاں اپنے بیان میں وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ کی بحالی کی کوششں جاری ہیں، علاوہ ازیں وزارت نے مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے ساتھ ساتھ انکوائری کا بھی فیصلہ کیا ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…