جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی الزام تراشیاں ،حافظ سعیدبھی بول پڑے

datetime 16  جنوری‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارت کی الزام تراشیوں پر گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ بھارت سے دوستی کیلئے ملکی و قومی مفادات کو پس پشت ڈالاجارہا ہے۔ حکومت ملک و قوم کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر رہی۔ بھارت کو خوش کرنے والی پالیسیوں سے مودی سرکار کو شہ مل رہی ہے۔ کشمیری لاکھوں شہداء کی قربانیاں پیش کرنے کے باوجود وہ پاکستان کے زیادہ خیر خواہ اور محبت رکھنے والے ہیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کو اس بات کی بہت فکر ہے کہ کہیں بھارت، امریکہ اور یورپ ناراض نہ ہو جائیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جن سے بیرونی قوتیں خوش رہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں سے زیادہ کشمیریوں کو پاکستان کی سلامتی، استحکام اور مفاد عزیز ہے۔ پٹھانکوٹ پر حملہ کے بعد جب انڈیا نے پاکستان پر بلاجواز الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کیا تو کشمیری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی اور کہاکہ یہ کام ہم نے کیا ہے کیونکہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر آٹھ لاکھ بھارتی فوج کشمیر پر زبردستی قبضہ کر کے نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل سکتی ہے تو مظلوم کشمیریوں کو بھی بھارتی فورسز اور ان کے اڈوں پر حملوں کا حق حاصل ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کو خوش کرنے والے اقدامات اٹھانے کی بجائے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ انڈیا کی بے بنیاد الزام تراشیوں کے جواب میں پاکستانی حکمرانوں نے گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر بھارت و امریکہ کو ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں۔ ایسے اقدامات سے بھارت کو شہ مل رہی ہے۔ وہ کابل میں پاکستانی سفارت خانہ پر حملہ جیسی کارروائیاں کروا رہا ہے اور بلوچستان و دیگر علاقوں میں تخریب کاری و دہشت گردی پروان چڑھا رہا ہے لیکن کوئی اس کی دہشت گردی کیخلاف بولنے کیلئے تیار نہیں ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…